جرائم

مجھے کہا جا رہا ہے بنی گالا کے بندے کا نام لو، پنکی

ملزمہ انمول عرف پنکی کا کہنا ہے کہ مجھے کہا جا رہا ہے بنی گالا کے بندے کا نام لو۔

اسپیشل جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں ملزمہ انمول عرف پنکی کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ پولیس اپنی مرضی کا بیان دلوانا چاہتی ہے۔

عدالت نے تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ اس کا  پرانا آرڈر کہاں ہے، نظر ثانی اور جوڈیشل مجسٹریٹ کے پرانے دونوں آرڈر پیش کریں۔

ملزمہ نے عدالت کو بتایا کہ میرے خلاف 20 سے 25 پرچے ڈالے جا رہے ہیں، کہا جارہا ہے کہ سب کچھ قبول کریں ورنہ آپ کی فیملی کو اٹھا کر لے جائیں گے، بنی گالہ کے ایک بندے کا نام لیا جا رہا ہے، کہا جا رہا ہے اس کا نام لو، پہلے دن مجھے وین میں لائے تھے، انہوں نے کہا تھا ایسے آپ نے چلنا ہے، جس گھر میں میری گرفتاری ڈالی گئی وہ میرا نہیں ہے۔

علاوہ ازیں انمول پنکی کا عدالت میں بنی گالہ کے ایک آدمی کے حوالے سے دیا گیا بیان مبینہ طور تفتیش پر اثر انداز ہونے کی کوشش ہے۔

انمول پنکی کیس کی تفتیش میں شامل ایک پولیس آفیسر نے بتایا ہے کہ انمول پنکی ایک شاطر منشیات فروش ہے جو تفتیش اور عدالتی کارروائی پر اثر انداز ہونے کے لیے بنی گالہ کے آدمی کے حوالے سے پولیس پر الزامات لگا رہی ہے۔

پولیس آفیسر نے مزید بتایا کہ انمول پنکی کا عدالت میں دیا گیا بیان ایک خطر ناک اسٹنٹ ہے جس میں وہ ایک مخصوص جماعت کو پولیس کے خلاف استعمال کرکے تفتیش کا رخ موڑ نا چاہتی ہیں۔

پولیس آفیسر نے بتایا کہ اس سے قبل وہ پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت پر بھی جھوٹا الزام لگا چکی ہے تاہم، ملزمہ کے خلاف اتنے مضبوط شواہد ہیں کہ وہ کسی صورت بچ نہیں سکتی۔

ضلع جنوبی کی عدالت سے سماعت کے بعد واپسی پر ملزمہ کو لے جاتے ہوئے شیم شیم کے نعرے لگ گئے، جس پر سماعت میں موجود کچھ افراد مشتعل ہوگئے اور کمرۂ عدالت کے باہر مارو مارو کے نعرے لگے، پولیس بمشکل ملزمہ کو حصار میں لے کر گئی۔

Related Articles

جواب دیں

Back to top button