
داتا دربار توسیعی منصوبہ باہمی مشاورت سے کیا جائے گا۔ ڈاکٹر احسان بھٹہ
محکمہ اوقاف پنجاب داتا دربار توسیعی منصوبے سمیت تمام مذہبی و انتظامی امور میں اہلِ سنت علماء کو ساتھ لے کر چلے گا اور ہر فیصلہ باہمی مشاورت سے کیا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار سیکرٹری/چیف ایڈمنسٹریٹر اوقاف پنجاب ڈاکٹر احسان بھٹہ نے اپنے دفتر محکمہ اوقاف پنجاب میں علماء کے ایک نمائندہ وفد سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
ممبر اسلامی نظریاتی کونسل و صدر علماء مشائخ ونگ مسلم لیگ (ن) مفتی انتخاب احمد نوری کی قیادت میں مختلف اہلِ سنت تنظیمات کے نمائندہ وفد میں مولانا محمد علی نقشبندی، سید تنویر شاہ، مفتی محمد حسیب قادری، مفتی محمد کریم خان، پیر معاذ المصطفیٰ قادری، سردار محمد طاہر ڈوگر، مولانا پیر محمد حفیظ اظہر، مولانا عمران الحسن فاروقی، مولانا ذوالفقار مصطفیٰ ہاشمی، مولانا ممتاز ربانی، پیر بشیر احمد یوسفی، مولانا احسان الحق صدیقی اور مولانا راحت عطاری سمیت دیگر علماء شامل تھے۔ اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل مذہبی امور پنجاب شاہد حسن کلیانی بھی موجود تھے۔
ڈاکٹر احسان بھٹہ نے کہا کہ حکومت پنجاب کی پالیسی کے مطابق دینی امور میں تمام مکاتب فکر کو اعتماد میں لینا ترجیح ہے اور داتا دربار توسیعی منصوبہ شفافیت اور مشاورت کے ساتھ مکمل کیا جائے گا۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ اہلِ سنت علماء کو ہر مرحلے پر آن بورڈ رکھا جائے گا اور پنجاب بھر کے وقف مزارات پر زائرین کو بہترین سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ وفد نے محکمہ اوقاف کی جانب سے مزارات پر چندہ بکسوں میں رقوم کی حفاظت کے لیے حالیہ اقدامات کو سراہا اور مطالبہ کیا کہ اس عمل کو جاری رکھا جائے اور چوری و بے ضابطگی میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
اس موقع پر وفد نے اپنے مطالبات پیش کیے۔ ملاقات میں داتا دربار کے توسیعی منصوبے کی تعمیراتی کمیٹی میں اہلِ سنت علماء کی شمولیت، نئی تعمیر میں خطاطی و تحریرات علماء کے مشورے سے درج کرنے، پنجاب بھر کے مزارات پر حاضری کے آداب آویزاں کرنے اور امورِ مذہبیہ کمیٹی میں دو اہلِ سنت علماء کو شامل کرنے سمیت مجموعی طور پر آٹھ مطالبات پیش کیے گئے۔
علماء نے مطالبہ کیا کہ نئی تعمیر میں درج تحریرات اہلِ سنت و جماعت کے عقائد و معمولات کے مطابق علماء کے مشورے سے لکھی جائیں اور کمیٹی میں خطیب داتا دربار، دو ضلعی خطباء (لاہور) اور جامعہ نعیمیہ و جامعہ نظامیہ سے ایک ایک عالم دین کو شامل کیا جائے۔
مزید برآں مزار اور روڈ کی توسیع میں متاثر ہونے والی دو مساجد کے متبادل کی تعمیر، عرس حضرت داتا گنج بخشؒ اور چہلم امام حسینؓ (20 صفر) کے موقع پر گامے شاہ اور اردو بازار کی جانب زائرین کی سہولت کے لیے دو انڈر پاسز کی تعمیر، اور عرس انتظامات میں اہلِ سنت اسٹیک ہولڈرز کو شامل کرنے کی تجاویز بھی پیش کی گئیں۔
علماء نے اس بات پر بھی زور دیا کہ محکمہ اوقاف کے زیر انتظام مزارات خصوصاً مزار بابا فرید گنج شکرؒ، مزار بہائوالدین ذکریاؒ، مزار بابا بلھے شاہؒ سمیت دیگر مزارات پر نماز کے اوقات میں حاضری روکی جائے اور حاضری کے آداب نمایاں طور پر درج کیے جائیں۔
ڈاکٹر احسان بھٹہ نے وفد کے مطالبات کو غور سے سنا اور یقین دہانی کرائی کہ تمام قابلِ عمل تجاویز کو پالیسی کے مطابق زیرِ غور لایا جائے گا اور باہمی مشاورت سے عملی اقدامات کیے جائیں گے۔



