جنوبی کوریائی خواتین کا امریکی فوج کیخلاف جسم فروشی پر مجبور کرنے کا مقدمہ
وکلا کا کہنا ہے کہ امریکی فوجیوں کے لیے جسم فروشی پر مجبور کی گئی 100 سے زائد جنوبی کوریائی خواتین نے امریکا پر بدسلوکی کا الزام لگاتے ہوئے ایک تاریخی مقدمہ دائر کر دیا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق مورخین اور کارکنوں کا کہنا ہے کہ 1950 کی دہائی سے 1980 کی دہائی تک دسیوں ہزار جنوبی کوریائی خواتین ریاست کی سرپرستی میں چلنے والے کوٹھوں پر کام کرتی رہیں، جہاں وہ جنوبی کوریا کو شمالی کوریا سے بچانے کے لیے تعینات امریکی فوجیوں کو خدمات فراہم کرتی تھیں۔
2022 میں جنوبی کوریا کی اعلیٰ عدالت نے قرار دیا تھا کہ حکومت نے غیر قانونی طور پر ایسے کوٹھے ’قائم اور منظم کرکے چلائے‘ جو امریکی فوج کے لیے تھے، اور تقریباً 120 متاثرہ خواتین کو ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا۔
گزشتہ ہفتے 117 متاثرہ خواتین نے ایک نیا مقدمہ دائر کیا ہے، پہلی بار باضابطہ طور پر امریکی فوج پر الزام لگاتے ہوئے اور ان سے معافی کا مطالبہ کرتے ہوئے مقدمے میں ہر متاثرہ خاتون کے لیے 10 ملین وون (7 ہزار ڈالر 200 ڈالر) معاوضہ طلب کیا گیا ہے۔



