سیاسیات

خواجہ رفیق شہید کی برسی کے موقع پر ”قومی سلامتی کے تقاضے اور پائیدار جمہوری نظام کی ضرورت ” کے موضوع پر سیمینار

خواجہ رفیق شہید کی برسی کے موقع پر ”قومی سلامتی کے تقاضے اور پائیدار جمہوریت نظام کی ضرورت ” کے موضوع پر منعقدہ سیمینار میں مقررین نے ملک کو موجودہ ابتر صورتحال سے باہر نکالنے کیلئے نواز شریف سے کردار ادا کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ نواز شریف تجربے کے اعتبار سے بے پناہ اہمیت رکھتے ہیں ، انہیں چاہیے کہ وہ آگے بڑھیں پاکستان میں سے ایسی شخصیات ،سینئر لوگوں کاایک وفد ،گروپ تشکیل دے کر ریاست کے اداروں ،قومی قیادت اورقومی لیڈر شپ کے پاس جائیں اور قومی ڈائیلاگ کا راستہ کھولا جائے ،انہیں آگے آ کر بات کرنا پڑے گی تاکہ سیاسی مخالفین پر دبائو کم ہو ،سیاسی و معاشی استحکام کے لیے قومی سطح پر ڈائیلاگ کی ضرورت ہے ،یہ ڈائیلاگ کسی سیاسی جماعت،شخص یا گروہ کے لئے نہیںوطن عزیز کے لئے ہوں، سیاسی اور معاشی عدم استحکام کے ساتھ کوئی قوم ترقی نہیں کر سکتی ،یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ مکالمے سے کون انکاری ہے ، وہ کون سی سیاسی جماعت ہے جو مکالمے کی جگہ تصادم کا راستہ اختیار کرنے پر بضد ہے ،جو یہ کر رہا ہے اس کا نام لے کر بات کی جائے ۔

خواجہ رفیق شہید فائونڈیشن کے زیر اہتمام خواجہ رفیق کی 53برسی کی مناسبت سے ”قومی سلامتی کے تقاضے اور پائیدار جمہوریت نظام کی ضرورت ” کے موضوع پر سیمینار کا انعقاد کیا گیا ۔ جس سے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ خان ،جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ ، محسن داوڑ، مجیب الرحمن شامی ، حامد میر سمیت دیگر نے خطاب کیا تقریب میں اراکین قومی وصوبائی اسمبلی اور لیگی کارکنان کی کثیر تعداد موجود تھی ۔وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ پاکستان کو سیاسی اور معاشی استحکام کی ضرورت ہے، عدم استحکام کے ساتھ کوئی قوم وملک ترقی نہیں کر سکتا،ہمیں تنقید کو مثبت انداز میں لینا اور برداشت پیدا کرنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ خواجہ محمد رفیق شہید نے قوم کے لئے بڑی قربانی دی ہے، خواجہ محمد رفیق نے جمہوریت،عوام اور ملک وقوم کی خوشحالی کے لئے خون تک دیا۔انہوںنے کہا کہ اس طرح کی تقاریب منعقد ہونی چاہئیںجس سے ایک طرف ہم ماضی کی تاریخ سے واقفیت حاصل کرلیتے اور دوسری طرف ان شخصیات کی قربانیوں سے بھی واقف ہوجاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان لوگوں نے وہ قرض اتارے جو واجب بھی نہ تھے، میری دعا ہے کہ ان کی اولادیں اور ہم سب ان کی کہی ہوئی باتوں پر عمل کریں۔وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ خان نے کہا ہے کہ میرے سے پہلے آنے والے مقررین نے جو باتیں اور جس صورتحال کا ذکر کیا ہے میں بھی اسے بالکل میرے دل کی اتھاہ گہرائیوں اورذہنی سوچ کے حوالے سے درست سمجھتا ہوں ،لڑائی جھگڑا فساد کسی قوم کو آگے نہیں بڑھنے دیتا اور اسی وجہ سے پاکستان اس صورتحال کا شکار ہے ۔ انہوں نے کہاکہ پچیس مئی 2022کو اسلا آباد پر حملہ کیا گیا ،مسلح لوگوںکو ساتھ لایا گیا اگر وہ اقدام نہ کیا جاتاہے تو وزیر اعظم شہباز شریف کی تقریر تیار ہو گئی تھی جس میں اسمبلیوں کو تحلیل ہونا تھا اور ملک میں نئے انتخابات ہونا تھے ۔ اس کے بعد دوبارہ انتخابات کے معاملے پر بات ہوئی ، ہم اکتوبر 2023اور پی ٹی آئی والے مئی 2023میں انتخابات کی بات کر رہے تھے، ہمارے ساتھ مذاکرات کرنے والے پی ٹی آئی کے لوگوں نے کہا کہ ہمیں عمران خان سے اجازت لے لینے دیں اور کل ملیں گے لیکن انہیں اجازت نہ ملی اس کے بعد 9مئی ہو گیا ، پھر انہوںنے اس کے بعد بھی اسی طرح کی صورتحال پیدا کی ۔ عمران خان سے جیل میں ملاقاتوں میں 26نومبر کو پلان کیا گیا اور پھر اس پر عملدرآمد ہوا ، یہ سب کچھ عمران خان سے جیل میں ہونے والی ملاقاتوںکا نتیجہ تھا ، جب اس طرح کے معاملات ہوں تو پھر کیا قانون اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ ان معاملات کو ہونے دیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ سیاسی عدم استحکام اس وقت ہوتا ہے جب سیاسی جماعتیں آپس میں باہمی مکالمے کو ترک کر کے تصادم کا راستہ اختیار کرتی ہیں ،یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ سیاستی جماعتیں مکالمے سے انکار کریں گی اور تصادم کا راستہ اختیار کریں تو پھر ملک میں سیاسی عدم استحکام ہوتا ہے لیکن آج کے فورم اور باقی تقریبات میں یہ بات کیوں نہیںکی جاتی کہ اور کیوں نہیں بتایا جاتا کہ مکالمے سے کون انکاری ہے ،

وہ کون سی سیاسی جماعت ہے جو مکالمے کی جگہ تصادم کا راستہ اختیار کرنے پر بضد ہے ،اگر ہم ایسا کر رہے ہیں تو ہمیں بالکل الزام دیں اور اگر کوئی اور اس کام کو سر انجام د ے رہا ہے تو اس کا نام لے کر بات کریں ۔ انہوںنے کہا کہ یہ کہا جاتاہے کہ 8فروری جو انتخابات ہوئے وہ درست نہیں ہوئے ، ہمارا یہ دعوی تھا کہ ہماری 45نشستیں چھین لی گئیں اور اسے وزیر اعظم بنا دیا گیا ، اس وقت کے وزیر اعظم عمران خان قومی اسمبلی میں تشریف لائے تو شہبازشریف نے بطور قائدحزب اختلاف کہا کہ وزیر اعظم ہمارے ساتھ بڑی زیادتی ہوئی ،دھاندلی ہوئی ہے ،ہماری سیٹیں چھین کر آپ کو وزیر اعظم بنا دیاگیاہے لیکن اب آپ وزیر اعظم بن گئے ہیں ہم نے اس بات کو تسلیم کر لیا ہے آئیں ہم آپ کے ساتھ بیٹھنے کو تیار ہیں آپ کے ساتھ ڈائیلاگ کرنے کے لئے تیاری ہیں، میثاق جمہوریت کی بہتری اور میثاق معیشت کے لئے تیار ہیں ،اس ملک کی خاطر آپ کو تسلیم کرنے اور آگے چلنے کے لئے تیار ہیں ،اس کے بعد بلاول بھٹو نے بھی اس بات کی تائید کی اور ان کا یہ نعرہ بڑا مشہور ہوا کہ قدم بڑھائو عمران خان ہم تمہارے ساتھ ہیں لیکن اس کے بعد عمران خان نے اٹھ کر جو کہا وہ بھی تاریخ کا حصہ ہے ، میںنے تمہیں چھورنا ،جیلوںمیں ڈالوں گا ،تم مجھ سے این آر او مانگتے ہو۔انہوں نے کہا کہ اس ملک کے انٹلیکچول اس بات کی نشاندہی کریں کہ مکالمے سے کونسی جماعت انکاری ہے اور تصادم کا راستہ اختیار کرنے پر بضد ہے،ان کا نام لیا جائے جو تصادم چاہتے ہیں۔ خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ ہم اس تقریب کو اڑتالیس بر س سے ہر سال منا رہے ہیں اوراب یہ لاہور کی سیاسی روایت کی پرانی اور باقاعدہ تقریب کا روپ دھار چکی ہے ۔ خواجہ رفیق شہید کی زندگی اول تا آخر ہمارے لئے او ربالخصوص لئے میرے خاندان کے لئے مشعل راہ ہے ،انہوں نے قیام پاکستان کی تحریک سے لے کر اپنی زندگی کی آخری سانس تک تشکیل پاکستان اور تعمیرو تحفظ پاکستان کی جدوجہد کی ،وہ قائد اعظم اور اقبال کے سپاہی تھے اور وہ سمجھتے تھے کہ آئین ،جمہوریت ،انسانی حقوق ،عدم تشدد ،غریب و متوسط طبقے کی بالا دستی اورمعاشی و سماجی انصاف کے بغیر پاکستان آگے نہیں بڑھ سکتا ،وہ اسی مقصد کے لئے جئے اورلڑے ،گورے کی جیلیں کاٹیں اور پھر پاکستان آنے کے بعد کالے انگریزوں کی جیلیں کاٹیں، اس سفر میں انہوں نے اپنا کاروبار بھی تباہ کیا ، اپنے خاندان کو بھی دائو پر لگا دیا لیکن وہ پیچھے نہیں ہٹے اوردیانت اور عزم و استقلال کے چراغ روشن کئے رکھے ، والد کی شہادت کے بعد میری اور سلمان کی تربیت میری والدہ نے کی ، وہ ہماری ماں بھی تھیں باپ اور پیر و مرشد بھی تھیں ۔

انہوں نے کہا کہ والد کے قتل کے واقعہ کی وجہ سے میں پیپلز پارٹی کے لئے بڑا تلخی رکھتا تھا لیکن میں جب جیل گیا تو وہاں پیپلزپارٹی کے کارکنوں کو دیکھا جو آمریت کو للکار رہے تھے ، کوئی جمہوریت زندہ باد کا نعرہ لگا رہا تھا ، کوئی کوڑے کھا کر بیٹھے تھے لیکن ان کی پیشانی پر کوئی شکن نہیں تھے ، وہاں سے میرے نظریات بدلنا شروع ہوئے اور پیپلز پارٹی کے لئے میری تلخی اور نفرت میںکمی آنے لگی ، میں نے اس وقت سوچا تھاکہ ذوالفقار علی بھٹو کی فسطائیت کا انتقام ان کے کارکنوں سے نہیں لینا یہ نا انصافی ہو گی، میں پچاس سال کے سیاسی سفر کے بعد 14بار جیل گیا ہے ،جب حکومت بدلتی ہے مجھے جیل جانا ہوتا ہے ، میں نے مختلف ادوار دیکھنے کے بعد اپنے ہاتھ سے لڑائی لرنے کے بعد یہ سمجھتا ہوں کہ لڑائیاں جھگڑے اور طاقت کا استعمال ریاست کو آگے نہیں لے کر جا سکتا۔ انہوںنے کہا کہ بد قسمتی سے سے قیام پاکستان کے فوری بعد بابائے قوم ہم سے بچھڑ گئے ،بھارت کے بابا 19سال زندہ رہے وہاں جمہوریت آ گئی ، وہاں جاگیرداروںاورفوجی جرنیلوںکا گٹھ جوڑ نہیں بنا لیکن یہاں گٹھ جوڑ بنا اور پھر کبھی نہیں ٹوٹا ، جو سیاسی جماعتیں عوام نے بنائیں انہیں پذیرائی نہیں دی گئی اور جو اسٹیبلٹمنٹ نے بنائیں جنہیں کبھی طاقت دی انہیں کبھی گرایا اور کبھی حکومت میں لایا گیا ا اور یہ کھیل چلتا رہا ،

اس ملک میں مادر ملت سے لے کر آگے تک پاکستان بنانے والوں کو اور ان کی اولادوںکو ملک دشمن ،غدار او رقومی سلامتی کے دشمن قرار دیا گیا اور جن لوگوںنے جمہوریت کی آبرو کو لوٹا ،آئین کو پامال کیا ،دریا بیچے ،سکیورٹی پرسمجھوتے کئے انہیںسلیوٹ مارے گئے اور انہیںقوم کا ہیرو بنانے کی ناکام کوشش کی گئی جو کبھی کامیاب نہیں ہوئی ، ڈکیٹر گئے ان کے کوئی نام لیوا نہیں بچا،کیا پاکستان کے سارے وزیر اعظم غدار تھے ،ایک بھی محب وطن نہیں تھا کیا چیف جسٹس اور آرمی چیف سارے محب وطن تھے ان سے پوچھنے والا کوئی نہیں ، یہ کیسے چل سکتا ہے ،چوبیس کروڑ کا ملک اس طرح نہیں چل سکتا ۔ ملک کے بانیوںنے اس کی بنیاد جمہوریت پر رکھی تھی ، یہ ملک گوریلا جنگ کے ذریعے حاصل نہیں کیا گیا بلکہ ووٹ کی طاقت سے اسے حاصل کیا گیا ،جمہوریت ہمارے خمیر میں موجود ہے یہی وجہ ہے کہ جب جمہوریت چھینی جاتی ہے ہم پھر واپس آ جاتے ہیں ،یہاں جمہوری لیڈروں نے بڑے بڑے کارنامے سر انجام دئیے جن پر سر پیٹنے کو دل کرتا ہے ، قوم اس کے باوجود جمہوریت سے مایوس نہیں حالانکہ دیدہ دانستہ مایوس کرنے کی کوشش بھی کی گئی ،صنعتکاروں ،جاگیرداروں اورسلیبرٹیزکو لیڈری دی گئی اورسیاسی جدوجہد سے آنے والوں کودبایا گیا جس کا نتیجہ آج سب کے سامنے ہے ۔مجھے آج یہ کہنا ہے کہ اول آخر مسلم لیگی ہوں مجھے کسی سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں ہے ،میرا اپنی جماعت میں جو دہائیوں پہلے موقف تھا آج بھی وہی ہے ، میں نے اصولوں پر کبھی کمپرو مائز نہیں کیا ، مجھے آخری بار جیل بھیجنے والوںنے بڑی نیکی کی جہاں مجھے بہت کچھ سوچنے کا موقع ملا ۔ میں نے وہاں سوچا ریلوے کو ٹھیک کرنا یہ میرا کام نہیں ہے ، میں نے ریلوے کو ٹھیک کرکے گیا ،لیکن میری پانچ سال کی محنت کوپانچ مہینے میں تباہ کر دیا گیا، میں ویسے رائٹسٹ تھا لیکن میں نے فیصلہ کیا لیفٹسٹ سیاست کروںگا ، پروگریسو سیاست کروں گا، میں جو بات باہر کرتا ہوں وہی جماعت کی میٹنگ میں کرتا ہوں ، میں جماعت کی باتیں باہر نہیں کرتا تھا لیکن پھر میں نے فیصلہ کیا اب باتیں جماعت کے باہر بھی کروں گا ۔انہوںنے کہا کہ میں جیل سے سو چ کر ایا تھا اب میں نے انتخاب نہیں لڑنا ، میں سوچ کر آیا تھاکہ نفرت اور انتقام کو دفن کر دیں گے، کیمپ جیل باہر نکلتے ہی میں نے کہا تھا جنہوںنے مجھے قید کیا میں ان سے نفرت نہیں کروں گا انتقام نہیں لوںگا۔کیونکہ اس طرح ریاستیں آگے نہیں بڑھتیں بلکہ بکھر جاتی ہیں ۔میں انتخاب لڑا تو میرے حلقے کو چار حصوں میں تقسیم کر دیاگیا ، کئی مذہبی امیدواروں کو کھڑا کر دیا گیا ، میںتو پہلے ہی انتخاب نہیں لڑنا چاہتا تھا کیونکہ مجھے سمجھ آ گئی تھی کہ جو اسمبلیاں ریمورٹ کنٹرول سے چلائی جاتی ہیں وہ کیا نتائج دیںگی ۔ انہوںنے کہا کہ پاکستان کے لوگوں کا ووٹ کی طاقت پر اعتماد بار بار مجروح ہو رہا ہے لیکن اب اس کومجروح ہونے سے بچایاجائے ،ہم پہلے پی ٹی آئی کو سمجھاتے تھے لیکن انہیں سمجھ نہیں آتی تھی ، وہ ہمیں رگڑا لگانے پر تلے ہوئے تھے ، ہم نے انہیں کہا تھاکہ وقت آئے گا تم کمبل کو چھوڑو گے لیکن وہ تمہیں نہیںچھوڑے گا ،ان کی روش تھی مخالفین کو رگڑا لگائو، سر قلم کردو،ہیروئن ڈال دو ،کرپشن کے جھوٹے مقدمات میں رگیدو ، نواز شریف کو نہ ملنے دو ، ہماری ساری پارٹی کو رگڑ الگا لیکن ہم نے کہا تھا یہ ایک دن ختم ہوگا اورآپ کی باری آ آئے گی اور بد قسمتی سے ان کی باری آ گئی، مجھ سے جیسے لوگ اس باری پر خوش نہیں ہیں،سزا چاہے صحیح ہوتی ہے یا غلط ہم نے کبھی بغلیں نہیںبجائیں، جو یونین کو نسل کا انتخاب نہیں جیت سکتا اسے ایوانوں میں پہنچا دیا جاتاہے یہ کوئی طریقہ ہے ۔

خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ بنیان المرصوص کے نتیجے میں پوری دنیا میں پاکستان کا سر فخر سے بلند ہوا ، بہادر افواج کے فوجی افسران اورجوانوں نے کمال کیا اور اپنے سے چھ گنا بڑے طاقتور دشمن کو چاوں شانے چت کر دیا ، اس سے پاکستان کی عزت بنی اور یہ ایٹمی دھماکوں کے بعد دوسرا موقع تھا جب پاکستانی سر اٹھاکر چلنے کے قابل ہوئے،کوئی مانے یا نہ مانے شہباز شریف اوران کی ٹیم کی انتھک محنت تھی اس کے نتیجے میں پاکستان جو دیوالیہ ہونے کے قریب تھا اس سے بچا ، اس میں کوئی شک نہیں مسلم لیگ (ن) ینے پنی سیاست دائو پر لگائی اور ہم ریاست کو بچانے کے لئے کھڑے ہو گئے ، یہاں تک بات ٹھیک ہے ،پنجاب کی حکومت تاریخی کام کر رہی ہے ۔میں اپنے قائدین کو بتاتا رہتا ہوں کہ جو کام ہو رہے ہیں اس کے ثمرات عوام کو ملنے چاہئیں جو نہیں مل رہے اور بہت ساری کوششیں ضائع ہو رہی ہیں کیونکہ ملک میں سیاسی درجہ حرارت تیز ہے ،ملک میں کشمکش بہت زیادہ ہے یہ نہیں ہونی چاہیے ، اس کا کوئی راستہ نکلنا چاہیے ، آج حال یہ ہے کہ ہر گالی پنجاب کو دی جاتی ہے ، نفرت کا مرکز پنجاب بنا دیاگیا ہے ، عام پنجابی کا فیصلہ سازی میں کوئی کردارنہیں ،فیصلے کہیں اور ہوتے ہیں،لاشیں پنجابیوں کی آتی ہیں ۔ جو آج نفرت ہے ایسی نفرت صوبوں کے درمیان پہلے نہیں دیکھی ، میں اس سے خوفزدہ ہوں ڈر لگتا ہے ،مشرقی پاکستان کے سانحے کے عوامل سے سبق سیکھاجائے لیکن سبق نہیں سیکھاگیا اس لئے نفرت بڑھتی جارہی ہے ، ٹی ٹی پی سے لڑائی تو بنتی ہے مقابلہ کیا جانا چاہیے لیکن جوفورسز پاکستان کے آئین کو مانتی ہیں سبز ہلالی پرچم کو مانتی ہیںان سے کیا معاملہ ہے ، میرا مطالبہ ہے اپیل کرنا چاہتاہوں خدا کے لئے پاکستان کے نام پر وہ قوتیں جو آئین پاکستان کو تسلیم کرتی ہیں جو سبز ہلالی پرچم کو بلند کرنا چاہتی ہیںان کو اکٹھا ہونا چاہیے ، کیا سارے مسئلے ختم ہو چکے ہیں،غربت کے خلاف جنگ جیت چکے ،بھوک ختم ہو گئی ہے، کیا بھار ت کا خطرہ ٹل چکا ہے ، افغانستان سے تعلقات ٹھیک ہیں، دہشتگردی ختم ہو گئی ہے ،معیشت ٹیک آف کر چکی ہے کیا ہم دنیا میں بڑی معیشت بن چکے ہے ،ہمارے اصل دشمن یہ ہیں، ہم اصل دشمن سے لڑتے نہیں اور ایک دوسرے سے لڑ کر اپنی توانائیاں ضائع کرتے ہین ،78سال ہو گئے ہیںہم پاکستانیوں کے اور کتنے سال ضائع کریں گے ، ہمیںپاکستان کے ساتھ جڑنا ہے ، آج لوگ باہر جارہے ہیں ،کیپٹل کی فلائٹ ہورہی ہے یہ کون سوچے گا،یہ سیاستدانوںکا کام ہے ، وہ خود کو کامیاب ثابت کریں ،مار پڑتی ہے رگڑے لگائے جاتے ہیں لیکن برداشت کیا جاتاہے ، ہم نے پیپلزپارٹی کو برداشت نہیں کیا ،ہم پاکستان کی خاطر اپنے والد کے قاتلوںکے ساتھ بیٹھے ، پاکستان کی خاطر برداشت کیا، ہمیں باقی لوگوں سے بات کرناپڑے گی اس کے بغیر راستہ نہیں نکلے گا۔ جو قوتیں آئین پر یقین رکھتی ہے ،پرچم کو مانتی ہیں انہیں یہ کرنا پڑے گا ۔ انہوں نے کہا کہ 9 مئی جان بوجھ کر کیا گیا ، جب تحریک عدم اعتماد آئی تو عمران خان کو چاہیے تھا کہ جمہوری طریقے سے مقابلہ کرے ، انہوںنے آئین کی خلاف ورزی کی ،ان کی اپنی غلطیاں بہت ہیں ۔اگر وہ قائد حزب اختلاف بن کر بیٹھ جاتے تو 9 مئی ہوتا نہ آج وہ جیل میں ہوتے نہ اتنی کشمکش کرنا پڑتی ، گالیاں ،الزام ،فسطائیت اس حد تک ہے کہ ان کا مقدمہ لڑنا مشکل ہے ،ان کا مقدمہ کس بنیاد پر لڑیں، ان کی کوئی گارنٹی دینے کے لئے تیار نہیں ، میں یہ نہیں کہتا کہ وہ تابع کریںگے بلکہ یہ کہ جمہوری رویہ اپنائیں گے، اس کے باوجود درست کہا گیا ہے کردار نواز شریف کو ادا کرنا پڑے گا۔ہمارا ان سے روح او ردل کا رشتہ ہے جسے الفاظ میں بیان نہیں کر سکتے ،لیکن ان کا دل زخمی کیاگیا ہے ان کو بہت تکلیف پہنچائی گئی ہے ، لیکن انہیںکردار اد اکرنا چاہیے اور کرنا پڑے گا ،اس وقت وہ سب سے بڑے ہیں ، ان کی ذات ساکھ کی حامل ہے او رسب کو ان پر اعتماد ہے وہ بات کریں تاکہ پاکستان آگے بڑھ سکے ،تنائو کم ہو اتاکہ ہمارے جو مخالفین ہیں ان پر بھی دبائو کم ہو انہیں بھی بات کرنے کی آزاد ی ملے وہ بھی اپنا موقف پیش کر سکیں،سیاستدان سیا ست پر بات نہیں کریں گے تو کس پر بات کریں گے ،اچھی لگی یا برے لگی مخالفین کی باتیں سنیں گے تو راستہ نکلے گا۔ خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ میری سوچ کے حامل لاکھوں لوگ یہ سمجھتے ہیں ملک کو ایک نئے سیاسی معاہدے کی ضرورت ہے ، شاید ہم نیا آئین تو نہ بنا سکیں لیکن اس میں رہتے ہوئے ایک سیاسی معاہدہ نا گزیر ہے ، اس ملک کو ایک نیا میثاق جمہوریت چاہیے ۔ انہوںنے کہاکہ کوئی کسی کو مائنس نہیں کر سکتا، سیاسی جماعتیں حقیقت ہوتی ہیں۔ جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ خواجہ رفیق شہید ایک جری ،بہادر ،سیاسی جمہوری او رپر امن جدوجہد کا ایک بہت شاندار اور عظیم نام تھے ۔خواجہ رفیق کی شہادت کے موقع پر مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی نے فرمایا کہ کبھی کسی نے میری زبان سے کسی کے بارے میں بد دعا نہیں سنی ہو گی لیکن میں خواجہ رفیق کے اس قتل نا حق پر ان ظالموں کے خلاف بد دعا بھی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کے ہاں ایک بد ترین پکڑ میں آئیں گے۔ 1970کے انتخابات کے بعد شیخ مجیب الرحمن نے خواجہ رفیق کو پیشکش کی میں آپ کو ڈھاکہ میںاپنی خالی ہونے والی نشست پر ضمنی الیکشن لڑائوں گا آپ جیت جائیں گے ،خواجہ رفیق شہید نے کہاکہ میری ملاقات اب اسی وقت ہو سکتی ہے جب مجیب متحدہ پاکستان کا ایک دستور اور ایک لائحہ عمل دے وگرنہ میںکسی سیٹ اور ممبری کا بھوکا نہیں ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے پچیس سال سے انتخابات ہو رہے ہیںجمہوریت موجود ہے آئین بھی ایک شکل میں میں موجود ہے ،اسمبلیاں ہوتی ہیںحکومتیں چل رہی ہیں ،سول اور ملٹری تعلقات کو ایک پیج پر پیش کرنے کی بات کی جاتی ہے ،مقبول سیاست ہے ، مقبول بیانیہ ہے ،مقبول شخصیات ہیں ، ان شخصیات کے بت تراشے جاتے ہیں ان کے گرد عوامی جذبات کو باندھا جاتاہے اس کے باوجود ملک میں جمہوری اور سیاسی استحکام نہیں ہے ،سیاسی عدم استحکام پاکستان کے لئے وبال جان بنتا جارہا ہے ۔افواج پاکستان نے معرکہ حق کی صورت میںجو ایک عظیم الشان کامیابی حاصل کی ،دنیا بھر میں پاکستان کو عزت ملی ہے وقار ملا ہے ،بیرون ممالک پاکستانی سر فخر سے بلند کر کے سینہ پر ہاتھ رکھ کر اپنی عزت کا اظہار کر رہے ہیںلیکن میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اس کے بعد جو مسلسل اقدامات ہو رہے ہیں قومی وحدت کو قومی یکجہتی کو فیڈریشن کو فیڈریشن کی اکائیوں کو جو ایک نیا دھچکا مل رہا ہے یہ پاکستان کے مستقبل کے لئے ایک بڑے خطرات کی گھنٹیاں بنتی چلی جارہی ہی۔ انہوںنے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی بے پناہ محنت ہے ،پنجاب میں وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کی بے پناہ محنت ہے جو قابل تعریف ہے ،وزیر اعظم کی عالمی لیڈر شپ کے ساتھ جھپیاں ، خوش گپیاں ہیں جو تعلقا ت ہیں یہ پاکستان کے لئے قابل فخر ہیں لیکن ان سب چیزوں کے اثرات پاکستان میں سیاسی استحکام کی صورت میںنہیں ہیں،سیاسی جڑوں کی مضبوطی نہیں مل رہی ،یہ جمہوری اقدار کی مضبوطی کے لئے نہیں ہیں ، سیاسی عدم استحکام پاکستان میں ہر بحران کا منبع ہے ،سیاسی استحکام ہو گا تو معاشی استحکام آئے گا ،اس لئے یہ کہنا چاہتا ہوںکہ ان حالات سے نبرد آزما ہونے کے لئے ان سے نجات حاصل کرنے کیلئے پائیدار جمہوریت کے لئے اس کی تشخیص نا گزیر ہے ،78سال کی تاریخ اسی بات کاسبق دے رہی ہے ،شخصی بالا دستی ہے ،خاندانوں کاپارٹیوں پر بالا دستی کا قبضہ ہے ،مقبول جذباتی بیانیے او رنعرے دینے کا کلچر ہے ، مقبول شخصیات کی بنیاد میں پارٹی کو بے اثر کرنے اورپارٹیوںکے وجود کے بے روح بنانا سیاست اور جمہوریت کے لئے ایک خطرناک شکل بن گئی ہے ، آئین سے بالا دست ہو کر سول اور ملٹری تعلقات کو ایک پیج پر ظاہر کر کے یہ سمجھنا کہ ملک مستحکم ہو رہا ہے ،یہ تجربہ ،یہ ڈاکٹرائن ،یہ حقیقت پاکستان کے لئے مشکلات پیدا کر رہی ہے ،اس سے قومی وحدت ،قومی یکجہتی اورفیڈریشن کی اکائیاں کمزور ہو رہی ہیں،آج ہر آواز زہرآلود ہو رہی ہے ،اس بارے میںسنجیدگی سے سوچنا ہوگا،یہ اس قومی سیمینار کا اصل پیغام ہے جب تک نظریاتی کارکنان کی عزت کو تسلیم نہیںکیا جائے گا ،سیاست میںاستحکام نہیںآ سکتا،سیاست میںروداری نا گزیر ہے ،برداشت اور ڈائیلاگ نا گزیر ہے ،میںسمجھتا ہوں سول اور ملٹری اسٹیبلشمننٹ پاکستان کے عوام کو جمہوریت طشتری پر نہیں رکھ کر دے گی ،یہ سیاستدانوںقومی لیڈر شپ کا کام ہے ،جمہوری قیادت کا کام ہے وہ ڈائیلاگ کا راستہ اختیار کریں، سیاست بند گلی میں ہے ،سیاست کو بحرانوں سے نکالنا ، قومی ڈائیلاگ کا راستہ نکالنا ہوگا ، میں دیانتداری سے سمجھتاہوں اس و قت نواز شریف تجربے کے اعتبار سے ریاست کے امور کے اعتبار سے بے پناہ اہمیت رکھتے ہیں ، انہیں چاہیے کہ وہ آگے بڑھیں پاکستان میں سے ایسی شخصیات ،سینئر لوگوں کاایک وفد ،گروپ تشکیل دے کر ریاست کے اداروں کے پاس بھی جائیں ،قومی قیادت کے پاس بھی جائیں ،قومی لیڈر شپ کے پاس جائیں اور قومی ڈائیلاگ کا راستہ کھولا جائے ، نوابزادہ نصرا اللہ خان اس ملک کی ایسی شخصیت تھے جوایسے مواقعوں پر متحرک ہوتے اور ہر ایک کے پاس جاتے اور کسی نہ کسی شکل میں جمہوریت کی پٹڑی پر کھڑا رکھنے کی کوشش کرتے ۔انہوںنے کہا کہ آج معیشت تباہ ہے ،عام آدمی کی زندگی مشکلا ت کا شکار ہے ، محکمے تباہ حال ہیں ،زراعت صنعت تجارت منہ زوروںکی بنیاد پر نہیں چل سکتی ۔دہشتگردی کے خاتمے کے لئے نیشنل ایکشن پلان جو نواز شریف کی وزار ت عظمی کے دور میں تمام جماعتوں کے اتفاق رائے سے ہوا اس کی روح کے مطابق اس کو نافذ ہونا چاہیے ،اس موقع پر سمجھتا ہوںکہ یہ قومی سیمینار ہمیں اس بات کا راستہ دے رہا ہے کہ لوگ اپنے اندر اختلاف کی بات کو سننے کی ہمت رکھیں، برداشت کا ماد ہ پیدا کریںسیاست کھلواڑ نہیں۔ سینئر صحافی مجیب الرحمن شامی نے کہا کہ دسمبر کا مہینہ پاکستان کے ٹوٹنے کی یاد دلاتا ہے ،خواجہ رفیق شہید کی شہادت کی یاد دلاتا ہے ،اس جنگ و جدل کی یاد دلاتا ہے ہمارے ہاں جو برپا رہی ہیں،سیاسی جماعتیں ایک دوسرے سے نبرد آز ما رہی ہیں، فوج نے بار بار مارشل لاء لگایا ، کبھی لگایا ہے او رکبھی لگائے بغیر اقتدار سنبھالا ہے ، 78سال ہو گئے ہیں پاکستان کو اس پٹڑی پر نہیں چلاسکے ،جاگیرداری کو نہیں ختم کر سکے ،عام آدمی کو حق نہیںمل سکا ، ہائبریڈ نظام کے خاتمے کی بات کی جارہی ہے ، اگر یہ ختم ہو جائے گا تو مکمل ان کے قبضے میں آجا ئے گا ،جو روکھی سوکھی مل رہی ہے گزارہ کر لیں ،آج بنگلہ دیش میں نقشہ بدل گیا ہے ۔ہمیں غور کرنا چاہیے جہاں ایک جماعت بر سراقتدار آتی ہے تو اس کے اورنعرے ہوتے ہیں جب دوسری جماعت آتی ہے تو اس کا نعرہ اور ہوتا ہے ، یہی جماعتیں جب اپوزیشن میں ہوتی ہیں تو انکے نعرے اور ہوتے ہیں،سارے نعرے تبدیل ہو جاتے ہیں ،جوووٹ کو عزت دینے کے خواب دیکھتے ہیں وہ بھی تبدیل ہو جاتے ہیں۔ سیاستدان ایک دوسرے کو جینے کا حق دیں ،ایک دوسرے کو زندہ رہنے دیں،ایک دوسرے سے ہاتھ ملائیں تو جب چاہیں گے ہائبریڈ نظام ختم ہو جائے گا ۔انہوںنے کہاکہ آج سیاستدانوںمیں سے ہر ایک کی تمنا ہے کہ ان کے نکاح میں آئوں ،چاہے نکاح میں نہ رکھیں ساتھ رکھیں ، یہ تمنا نہیں کہ بے دخل ہو جائیں، یہ تمنا ہے کہ مجھے ساتھ ملا لیں ، لڑائی غلامی کی ہے مجھے غلامی میں قبول فرما لیں ، اگر یہی لڑائی اور آرزو رے گی یہی رہے گا تو اس سے بھی بد تر ہو گا۔ مجیب الرحمن شامی نے کہا کہ لیاقت بلوچ کہہ رہے ہیں نواز شریف قیادت کریں ، اکٹھا کریں ، اگر نواز شریف یہ کام کریں تو اچھی بات ہے لیکن آپ خود ہی کر لیں ۔نو مئی کے مقدمات میں فوجی تنصیبات پر حملے کئے گئے جن کی شدید مذمت کرتا ہوں اس کی بالکل اس کی اجازت نہیںدی جا سکتی ،کوئی جذبات میں بہہ گیا ،مس لیڈ ہو گیا ہے لیکن دو ، تین سال جیل کاٹ لی ہے ، رہنمائوںکو دس ،دس سال قید کی سزائیں ،پھر قید کی سزائیں،آپ کہاں تک لے کر جائیں گے ،جنگ میںفوجیں آپس میں لڑتی ہیں پھر مذاکرات کی میز پر بیٹھ جاتی ہیں،65اور71کی جنگوں کے بعد کیا معاہدے نہیں ہوئے ، کیا ہم اپنے اندر کوئی معاہدہ نہیںکر سکتے ،ان لوگوںکو معافی نہیںدے سکتے ،ان میںبزرگ ہیں، بیمار ہیں،خواتین ہیں،رحم کر دیں انہیں اپنے معاملات درست کرنے کا موقع دیدیں ، قوموںکو درگزر سے کام لینا پڑتا ہے رحم دلی سے بھی کام لینا پڑتاہے ،آخر ہم کب تک تماشے لگاتے رہیں گے،لازم ہے کہ اقتدار کی سیاست سے اوپر اٹھ کر دیکھیں ۔اگر ہمیں آج دلدل سے نکلنا ہے تو خواجہ رفیق شہید کی روح بھی یہی تقاضہ کر رہی ہے ، وہ اتحاد کا تقاضہ کر رہی ہے،ہمیں عزم اور ارادے کے ساتھ ملک کو آگے لے کر جانا ہے ،اس کے لئے ایک دوسرے کو برداشت کرنا ہوگا ،جو اہل اقتدار ہیں انہیںپہل کرنا ہو گی ،جو ساتھ نہیں چلنا چاہتے ہیںان کو ان کے حال پر چھوڑ دیں، ہم نے 78سال ضائع کر دئیے ہیں، اس وقت جو نظام ہے یہ غنیمت ہے اس پر گزارہ کرنا پڑے گا ، جب تک متحد نہیں ہوں گے ،جب تک سپیس نہیں دیں گے اس وقت تک نہ آئین کی بالادستی اورنہ قانون کی حاکمیت ہو گی ۔اس موقع پر دیگر نے بھی خطاب کیا ۔

Related Articles

جواب دیں

Back to top button