
پشاور ہائی کورٹ کا بڑا فیصلہ، عوامی املاک اور سرکاری اختیار کا استعمال غلط اور اصولِ امانت کے منافی قرار
پشاور ہائی کورٹ کا بڑا فیصلہ۔ عدالت نے سرکاری گاڑیوں، مشینری یا کسی بھی سرکاری وسیلے کا سیاسی اجتماعات، احتجاجی ریلیوں یا لانگ مارچ میں استعمال عوامی املاک اور سرکاری اختیار کا استعمال غلط اور اصولِ امانت کے منافی قرار دے دیا ہے۔ آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت دائر رٹ میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ خیبر پختونخوا حکومت اور اس کے اداروں کو لانگ مارچ، احتجاجی ریلی یا کسی بھی سیاسی سرگرمی کے لیے ریسکیو مشینری، فائر بریگیڈ، بھاری مشینری، سرکاری گاڑیاں اور سرکاری عملہ استعمال کرنے سے روکا جائے۔فریقین کے دلائل سننے اور ریکارڈ دیکھنے کے بعد عدالت کے سامنے وہ لسٹ بھی آئی جس میں اسلام آباد سے سیاسی احتجاج / ریلی کے دوران پکڑی جانے والی سرکاری گاڑیوں کا اندراج تھا، جو خیبر پختونخوا حکومت کے استعمال میں تھیں۔فیصلے میں کہا گیا کہ سرکاری وسائل، جن میں سرکاری گاڑیاں اور بھاری مشینری شامل ہیں، عوام کے ٹیکس کے پیسے سے اس لیے فراہم کی جاتی ہیں کہ سرکاری فرائض انجام دیے جائیں اور شہریوں کو قانون کے مطابق خدمات دی جائیں، نہ کہ کسی جماعت یا فرد کے سیاسی ایجنڈے کے لیے استعمال نہ ہوں۔ سرکاری وسائل کو سیاسی مقاصد کے لیے موڑنا حکمرانی کی غیر جانب داری کو مجروح کرتا ہے، سرکاری منصب کی حرمت کو کمزور کرتا ہے اور عوام کے اعتماد کو ہلا دیتا ہے۔عدالت نے واضح کیا کہ سرکاری وسائل کا غیر مجاز استعمال سروس اور احتسابی قوانین کے تحت بدعنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے زمرے میں آ سکتا ہے، اور ہر سرکاری عہدیدار آئین کے آرٹیکلز 4، 5 اور 25 کے تحت قانون کی پابندی اور عوام کے اعتماد کا وفادار رہنے کا پابند ہے۔
عدالت کے مطابق عوامی وسائل کسی ایک گروہ، جماعت یا طبقے کے لیے دوسرے شہریوں کی قیمت پر مخصوص نہیں کیے جا سکتے، اور جمہوری نظام میں ریاست پر لازم ہے کہ سرکاری ذمہ داریوں اور سیاسی سرگرمیوں کے درمیان واضح حد فاصل برقرار رکھے۔ عدالت نے رٹ نمٹا تے ہوئے تمام فریقین اور متعلقہ حکام کو حکم دیا کہ ان کے کنٹرول میں موجود کوئی بھی سرکاری گاڑی، مشینری یا افرادی قوت کسی بھی احتجاج، لانگ مارچ، ریلی یا کسی نوعیت کی سیاسی سرگرمی کے لیے استعمال نہ ہو اور نہ ہی اس کی اجازت دی جائے۔



