سی پی این ای کا ملک بھر میں آزادی صحافت کی صورت حال پر تشویش کا اظہار
کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز (سی پی این ای ) کی پریس فریڈم اینڈ مانیٹرنگ کمیٹی کے اجلاس میں ملک بھر میں آزادی صحافت کی صورت حال پر تشویش کا اظہارکیا گیا اور صحافیوں کے قومی شناختی کارڈ ز اور بینک اکائونٹس کو بلاک کیے جانے سمیت ان کے یوٹیوب چینلز کی بندش کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی۔
کمیٹی کا اجلاس چیئرمین مقصود یوسفی کی زیر صدارت ہو۔ اجلاس میں سی پی این ای کے صدر کاظم خان نے صحافیوں کو شہریت کے بنیادی حقوق سے محروم کیے جانے کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے اسے آزادی صحافت پر حملے سے زیادہ خطرناک قرار دیا۔
انھوں نے کہا کہ حکومت کو آزادی اظہار رائے کا احترام کرنا اور جبری بندشوں کا خاتمہ کرنا چاہیے۔ اجلاس میں سیکریٹری جنرل سی پی این ای غلام نبی چانڈیو نے کہا کہ حکومت کسی صحافی کو اس کے بنیادی حقوق سے محروم کرنے کا حق نہیں رکھتی۔اس موقع پر اجلاس نے ثمینہ پاشا اور مہر بخاری کے CINC کی بندش، بینک اکائونٹس منجمد کیے جانا ،مقدمات کا اندراج، طیب بلوچ کے ساتھ پیش آنے والے ناخوشگوار واقعے ، شہباز رانا کے خلاف کارروائی، رضی دادا کے یوٹیوب چینل کی بندش اور بلوچستان میں آزادی صحافت کی صورت حال پرتشویش کا اظہا کیا۔
اجلاس کے اختتام پر چیئرمین پریس فریڈم اینڈ مانیٹرنگ کمیٹی نے ان تمام واقعات کی مذمت کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ آزادی اظہار رائے کا احترام کیا جائے اور صحافیوں کو آزادانہ طور پر صحافتی فرائض انجام دینے کے مواقع فراہم کیے جائیں۔اجلاس میں صدر سی پی این ای کاظم خان، سیکریٹری جنرل غلام نبی چانڈیو، ڈپٹی چیئرمین پریس فریڈم اینڈ مانیٹرنگ کمیٹی ضیاء تنولی ، یحییٰ سدو زوئی اور عارف بلوچ نے شرکت کی۔



