پاکستان

این جی سی نے ٹرانسمیشن اور گرڈ سسٹم کی اپ گریڈیشن کے دو اہم منصوبے مکمل کر لیے

نیشنل گرڈ کمپنی آف پاکستان (این جی سی) نے ملک کے پاور ٹرانسمیشن نیٹ ورک کو مزید مضبوط بنانے اور سسٹم کی قابلِ اعتماد کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے لاہور اور حیدرآباد میں دو اہم منصوبے مکمل کر لئے ہیں۔
لاہور میں 220 کے وی ٹرانسمیشن لائن شیخوپورہ – بند روڈ لاہور، سرکٹ (I & II) کے ٹاور نمبر 01 سے ٹاور نمبر 55 تک کی اپ گریڈیشن کا کام منظور شدہ شٹ ڈاؤن کے دوران 03 جنوری سے 14 مارچ 2026 تک کامیابی سے مکمل کر لیا گیا ہے۔ اس ٹرانسمیشن لائن کو عارضی بنیادوں پر لوڈ کے ساتھ انرجائز کر دیا گیا ہے جو اس منصوبے پر پیش رفت میں ایک اہم سنگ میل ہے۔
منصوبے کے تحت 28 کلومیٹر طویل ٹرانسمیشن لائن پر ٹوئن بنڈل ریل کنڈکٹر کے ساتھ مجموعی طور پر 84 نئے ٹاورز نصب کیے جا رہے ہیں۔ اب تک 83 بنیادیں اور 70 ٹاورز کی تنصیب مکمل کی جا چکی ہے۔ اس کے علاوہ 18 کلومیٹر کنڈکٹر سٹرنگنگ، 53 پرانے ٹاورز کے انہدام اور 18 کلومیٹر پرانے کنڈکٹر کو اتارنے کا کام بھی مکمل کر لیا گیا ہے۔ پراجیکٹ سائٹ کے حالیہ دورے کے دوران ڈی ایم ڈی (اے ڈی اینڈ ایم) انجینئر رشید اے بھٹو نے منصوبے پر جاری سرگرمیوں کا جائزہ لیا اور تازہ پیش رفت کو سراہا۔
دوسری جانب این جی سی نے 220 کے وی گرڈ سٹیشن ٹنڈو محمد خان روڈ، حیدرآباد میں بھی 220/132 کے وی، 250 ایم وی اے آٹو ٹرانسفارمر کو کامیابی سے انرجائز کر دیا ہے جو قومی ٹرانسمیشن انفراسٹرکچر کو مزید مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
یہ آٹو ٹرانسفارمر این جی سی کے پراجیکٹ ڈیلیوری ساؤتھ نے ورلڈ بینک کے مالی تعاون سے جاری نیشنل ٹرانسمیشن ماڈرنائزیشن پراجیکٹ (NTMP-I) کے تحت نصب کیا ہے۔ اس آٹو ٹرانسفارمر کی تنصیب سے گرڈ سٹیشن کی ٹرانسفارمیشن کی استعداد میں اضافہ، سسٹم کی قابلِ اعتماد کارکردگی میں بہتری اور حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) کے صارفین کے لیے وولٹیج پروفائل کو مزید مستحکم بنانے میں مدد ملے گی۔
منیجنگ ڈائریکٹر (این جی سی) انجینئر الطاف حسین ملک نے پراجیکٹ ٹیموں کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان منصوبوں کی بروقت تکمیل قومی ٹرانسمیشن نیٹ ورک کو مزید مضبوط بنائے گی اور صارفین کو قابلِ اعتماد بجلی کی فراہمی میں مددگار ثابت ہوگی۔

Related Articles

جواب دیں

Back to top button