
حکومت کی جانب سے ملک میں پیٹرولیم کے تسلی بخش ذخائر موجود ہونے کے اعلانات کے باوجود شہری زیر گردش افواہوں کی وجہ سے تشویش میں مبتلا ہو گئے ، صوبائی دارالحکومت لاہور سمیت ملک بھر میں شہری زیادہ سے زیادہ پیٹرول حاصل کرنے کیلئے پیٹرول پمپس کا رخ کر رہے ہیں تاہم کئی مقامات پر مقررہ حد سے زیادہ پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی سے انکار کیا جارہا ہے ۔ تفصیلات کے مطابق خطے میںپھیلی کشیدگی اورآبنائے ہرمز کے بند ہونے سے عالمی سپلائی میں تعطل کے باعث آنے والے دنوں میں پیٹرولیم مصنوعات کی شدید قلت کی قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ حکومت اس حوالے سے میڈیا میں بارہا بیانات جاری کر چکی ہے کہ ملک میں پیٹرولیم کے تسلی بخش ذخائر موجود ہیں لیکن عوام ان بیانات کو کسی خاطر میں نہیں لا رہے اور اپنی گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں میں زیادہ سے زیادہ پیٹرول حاصل کرنے کیلئے پیٹرول پمپس پر پہنچ رہے ہیں۔ بتایاگیا ہے کہ اکثرمقامات پر پیٹرول پمپس مالکان ایک مقررہ حد سے زیادہ پیٹرول فروخت نہیں کر رہے جس کی وجہ سے عوام کی تشویش بڑھ رہی ہے ۔ کئی علاقوں میں گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی قطاریں بھی لگنا شروع ہو گئی ہیں ۔ عالمی صورتحال کے باعث حکومت کی جانب سے پندرہ روز کی بجائے ہفتے بعد پیٹرولیم کی قیمتوں میں ردو بدل کی اطلاعات کے باعث بھی عوام میں پریشانی کی لہر دوڑ گئی ہے ۔ ذرائع کے مطابق حکومت کی جانب سے قیمتوں میں آئندہ ردو بدل پٹرول کی قیمت 25 روپے فی لٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 60 لٹر روپے فی لٹر تک بڑھنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے ۔



