بین الاقوامی

کیا آیت اللہ علی رضا اعرافی ایران کے نئے رہبر معظم ہونگے؟

‏ایران نے اپنے آئین کے آرٹیکل 111 کو فعال کر دیا ہے، اور 36 سال بعد پہلی مرتبہ ملک کی اعلیٰ ترین قیادت میں ایک نیا چہرہ سامنے آیا ہے۔ آیت اللہ علی رضا اعرافی، جن کی عمر 67 سال ہے، اب عبوری طور پر اس منصب کی ذمہ داریاں سنبھال رہے ہیں۔ بہت سے لوگوں کے لیے یہ نام نیا ہے، لیکن ایران کے اندرونی طاقت کے ڈھانچے میں وہ کوئی اجنبی شخصیت نہیں۔

یہ بات اہم ہے کہ وہ اکیلے فیصلے نہیں کر رہے۔ ایران میں ایک تین رکنی قیادت کونسل تشکیل دی گئی ہے جس میں آیت اللہ اعرافی، صدر مسعود پزشکیان، اور چیف جسٹس غلام حسین محسنی اژہ‌ای شامل ہیں۔ یہ کونسل سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ‌ای کے اختیارات کو عارضی طور پر تقسیم کر کے نظام کو چلائے گی، جب تک کہ مجلس خبرگان رہبری مستقل سپریم لیڈر کا انتخاب نہیں کر لیتی۔ تاہم سب کی نظریں بالخصوص اعرافی پر مرکوز ہیں۔

اعرافی کی زندگی اور کیریئر اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ وہ کئی دہائیوں سے خاموشی کے ساتھ طاقت کے مراکز کے قریب رہے ہیں۔ 1959 میں میبد نامی قصبے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ آیت اللہ روح اللہ خمینی کے قریبی ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے۔ کم عمری میں ہی انہیں قم بھیج دیا گیا جہاں انہوں نے دینی تعلیم حاصل کی۔ صرف 33 برس کی عمر میں انہیں آیت اللہ علی خامنہ‌ای نے خود نماز جمعہ کا امام مقرر کیا، جو اس بات کی علامت سمجھا جاتا ہے کہ وہ اعلیٰ ترین قیادت کے اعتماد پر پورا اترتے تھے۔

انہوں نے بیک وقت ملک کے تین اہم ترین اداروں میں ذمہ داریاں سنبھالیں: ایران کے پورے حوزۂ علمیہ نظام کے سربراہ، گارڈین کونسل کے رکن — جو ہر قانون اور ہر امیدوار کی جانچ کرتی ہے — اور مجلس خبرگان کے رکن، جو خود سپریم لیڈر کا انتخاب کرتی ہے۔ یوں جو شخصیت آج عبوری طور پر سپریم لیڈر کے اختیارات سنبھالے ہوئے ہے، وہ پہلے ہی اس کمیٹی کا حصہ تھی جو سپریم لیڈر کا چناؤ کرتی ہے۔

اعرافی کی ایک اور پہچان یہ ہے کہ وہ عربی اور انگریزی دونوں زبانوں پر عبور رکھتے ہیں۔ 2022 میں انہوں نے ویٹی کن میں پوپ فرانسس سے ملاقات بھی کی۔ وہ جدید ٹیکنالوجی، خصوصاً مصنوعی ذہانت، کو ایران کا بیانیہ عالمی سطح پر پہنچانے کے لیے استعمال کرنے کے حامی سمجھے جاتے ہیں۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے انہیں نظام کا مکمل بااعتماد اور وفادار شخصیت قرار دیتے ہیں، جبکہ پاسداران انقلاب بھی انہیں ایک محفوظ اور قابلِ اعتماد انتخاب سمجھتے ہیں۔

اب اصل سوال یہ ہے کہ کیا مجلس خبرگان انہیں مستقل سپریم لیڈر منتخب کرے گی یا کوئی اور نام سامنے آئے گا؟ آنے والے دنوں میں ایران کی سیاست کا رخ اسی فیصلے سے متعین ہوگا۔ جیسے جیسے صورتحال واضح ہوگی، مزید تفصیلات سامنے آئیں گی۔

Related Articles

جواب دیں

Back to top button