
یہ تنازع مزید سنگین رخ اختیار کر سکتا ہے
خلیج کے مختلف حصوں سے دھماکوں، سائرن، فضائی دفاعی نظام کے فعال ہونے اور دھوئیں کے بادلوں کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔
ایران نے ہمیشہ کہا تھا کہ وہ خطے میں امریکی اڈوں پر جوابی کارروائی کرے گا، اور اس نے وقت ضائع کیے بغیر امریکہ کے خلیجی عرب اتحادیوں پر میزائلوں کی بارش کر دی۔
’یہ واقعی خوفناک ہے‘، یہ بات بحرین میں مقیم ایک برطانوی شہری نے مجھے بتائی جب اس نے دیکھا کہ پیٹریاٹ میزائل بیٹری ایک آنے والے میزائل کو اس کے سر کے اوپر ہی روک رہی ہے۔
یہ پہلی بار نہیں ہے کہ خلیجی ریاستیں، جن میں دبئی جیسا مشہور سیاحتی شہر بھی شامل ہے، جنگ کا سامنا کر رہی ہیں۔ 1980-88 کی ایران-عراق جنگ، سنہ 1991 کی ڈیزرٹ سٹارم، سنہ 2003 کا عراق پر حملہ اور گذشتہ برس ایران کی جانب سے قطر میں امریکی فضائی اڈے کو نشانہ بنانا اس کی مثالیں ہیں۔
لیکن یہ (تنازع) مختلف ہے۔ یہ پہلے کی کسی بھی صورتحال سے بڑا اور زیادہ خطرناک ہے۔
اسی لیے عمان، قطر اور سعودی عرب کے رہنماؤں نے پہلے ہی ٹرمپ انتظامیہ سے اپیل کی تھی کہ وہ پانی کے اُس پار اپنے بڑے پڑوسی پر حملہ نہ کرے۔
یہ تنازع مزید سنگین رخ اختیار کر سکتا ہے۔



