بین الاقوامی

نئی ’ایپسٹین فائلز‘ اور مودی سے کانگریس کے تین سوال

امریکی محکمہ انصاف نے جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کے متعلق لاکھوں نئی فائلیں جاری کی ہیں۔ انڈیا کی اپوزیشن جماعت کانگریس کا دعویٰ ہے کہ ان دستاویزات میں شامل ایک ای میل میں جیفری ایپسٹین نے انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی کا بھی ذکر کیا ہے اور کانگریس کے دعوے کے مطابق ای میل کے متن سے معلوم ہوتا ہے کہ مودی نے ایپسٹین کے مشورے پر عمل کیا جس سے ’مقصد پورا ہو گیا۔‘

انڈین وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے ’ایپسٹین فائلز‘ کی ای میل میں کیے گئے ان دعووں کو مسترد کیا ہے کہ انڈین وزیر اعظم نریندر مودی اور جیفری ایپسٹین کی ملاقات ہوئی تھی۔

انڈیا کی اپوزیشن جماعت کانگریس نے سنیچر کے روز دعویٰ کیا تھا کہ امریکی جنسی مجرم اور انسانی سمگلر جیفری ایپسٹین سے متعلقہ فائلز میں انڈین وزیر اعظم نریندر مودی کا نام بھی ہے۔

کانگریس کے رہنما پون کھیڑا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا: ’یہ پوری قوم کے لیے شرم کا مقام ہے۔ وزیر اعظم مودی کو سامنے آ کر ہمارے تین سوالوں کا جواب دینا ہو گا۔‘

تاہم، وزارت خارجہ نے ان الزامات کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ سنہ 2017 کو وزیر اعظم کا اسرائیل کا سرکاری دورہ ہی واحد حقیقت ہے۔ اس کے علاوہ ’ای میل کا متن ایک مجرم کی بے کار بکواس کے علاوہ کچھ نہیں۔‘

کانگریس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر دعویٰ کیا تھا کہ ’ایپسٹین فائلز میں نریندر مودی کا نام آیا ہے۔ جیفری ایسپٹین جو کہ ایک سیریل ریپسٹ، بچوں کے ساتھ جنسی جرائم کے مجرم اور انسانی سمگلر ہیں، اُنھوں نے نو جولائی 2017 کی ایک ای میل میں لکھا کہ انڈین وزیر اعظم نریندر مودی میرے مشورے کے مطابق اسرائیل گئے، امریکی صدر کے فائدے کے لیے وہاں ناچا گایا، اس سے مقصد پورا ہو گیا۔‘

کانگریس کے مطابق ’ایپسٹین نے واضح طور پر لکھا کہ مودی نے مجھ سے مشورہ لیا اور اسرائیل گئے، وہاں جا کر امریکی صدر کے فائدے کے لیے ناچا اور گایا، وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اس سے مقصد پورا ہو گیا۔‘

کانگریس کا کہنا ہے: ’یاد کریں کہ وزیر اعظم مودی چار سے چھ جولائی 2017 تک اسرائیل کے دورے پر گئے تھے، اُس دورے کے تین دن بعد ایپسٹین نے ای میل لکھی۔ سنہ 2017 کی جون 26۔25 کو دورہ اسرائیل سے پہلے، مودی نے امریکہ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی تھی۔ جیفری ایپسٹین کی ای میل کی کَڑیاں جوڑیں تو سمجھ آتی ہے کہ مودی جون 2017 میں امریکہ گئے تھے اور وہاں ایپسٹین سے مشورہ کیا تھا۔‘

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کی گئی پوسٹ میں کانگریس نے انڈین وزیر اعظم نریندر مودی سے تین سوال پوچھے ہیں:

’1۔ نریندر مودی جیفری ایپسٹین سے کیا مشورہ لے رہے تھے؟

2۔ امریکی صدر ٹرمپ کے کون سے فائدے کے لیے مودی اسرائیل میں ناچ اور گا رہے تھے؟

3۔ ایپسٹین نے لکھا اور مقصد پورا ہو گیا، اس کا کیا مطلب ہے؟

کانگریس نے لکھا: ’نریندر مودی جی، ملک جواب مانگ رہا ہے۔ سیریل ریپسٹ ایپسٹین سے آپ کا کیا رشتہ ہے؟‘

ایکس پر کی گئی پوسٹ میں کانگریس نے جیفری ایپسٹین کی مبینہ ای میل کا عکس بھی شامل کیا ہے اور اس میں وزیر اعظم نریندر مودی کے متعلق کی گئی بات کو نمایاں بھی کیا گیا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

Back to top button