پاکستان

سی پی این ای کی پیکا ایکٹ کے ذریعے آزادی صحافت کو پہنچنے والے نقصان پر سخت تشویش

کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز کی سندھ کمیٹی نے پیکا ایکٹ کے ذریعے آزادی صحافت کے آئینی حق کو پہنچنے والے سنگین نقصان پر سخت تشویش اور مذمت کا اظہار کرتے ہوئے اپنے دیرینہ اور واضح موقف کا اعادہ کیا ہے

کہ اس متنازع قانون میں تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز، خصوصا صحافتی تنظیموں، مدیران، قانونی ماہرین اور سول سوسائٹی سے بامعنی مشاورت کے بعد ہی ترامیم کی جانی چاہئیں۔

کمیٹی نے واضح کیا کہ آزادی اظہار اور آزاد صحافت کسی بھی جمہوری معاشرے کی بنیاد ہیں، اور ان پر قدغن آئینِ پاکستان کی روح کے منافی ہے۔

سی پی این ای سندھ کمیٹی کا اجلاس چیئرمین قاضی اسد عابد کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں صحافتی صنعت کو درپیش مجموعی مسائل، بالخصوص اظہارِ رائے کی آزادی، اخبارات اور جرائد کی معاشی مشکلات، اور سرکاری اشتہارات کی تقسیم کے غیر شفاف نظام پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔

اجلاس میں سندھ حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ اخبارات کو دیے جانے والے اشتہارات کے کوٹے میں اضافہ اور واجبات کی ادائیگی کے موجودہ نظام کو فوری طور پر بہتر، شفاف اور منصفانہ بنایا جائے، تاکہ اخباری صنعت کو درپیش مالی بحران میں کمی آ سکے۔ شرکا ء نے اس بات پر زور دیا کہ جرائد (پریاڈیکلز)کو بھی سرکاری اشتہارات میں مناسب اور مستقل حصہ دیا جائے، کیونکہ جرائد فکری، ادبی اور تحقیقی صحافت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

سندھ کمیٹی نے حکومت سے یہ مطالبہ بھی کیا کہ اخبارات کو دیے جانے والے اشتہارات کا مجموعی کوانٹم(تفصیلات)سندھ انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ (SID) اور پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ (PID) کی ویب سائٹس پر باقاعدگی سے جاری کیا جائے، تاکہ اشتہارات کی تقسیم میں شفافیت یقینی بنائی جا سکے اور شکوک و شبہات کا خاتمہ ہو۔

اجلاس میں جرائد کو درپیش عملی مسائل، محدود اشتہارات، ترسیل کے اخراجات اور اشاعتی مشکلات پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

اس موقع پر یہ تجویز پیش کی گئی کہ پوسٹ ماسٹر جنرل پاکستان سے ملاقات کر کے پریاڈیکلز کے پوسٹل ٹیرف میں خاطر خواہ کمی کروانے کے لیے موثر کوشش کی جائے، تاکہ جرائد اور اخبارات کی ترسیل آسان اور کم خرچ ہو سکے۔

مزید برآں، شرکا نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پریاڈیکلز کی اہمیت، مسائل اور صحافتی و فکری کردار کو اجاگر کرنے کے لیے سی پی این ای کے پلیٹ فارم سے ایک خصوصی سیمینار منعقد کیا جائے، جس میں متعلقہ سرکاری اداروں، پبلشرز، مدیران اور میڈیا ماہرین کو مدعو کیا جائے۔

اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ سی پی این ای آزادی صحافت، ادارتی خودمختاری اور صحافیوں کے پیشہ ورانہ حقوق کے تحفظ کے لیے اپنی جدوجہد ہر سطح پر جاری رکھے گی اور ہر اس قانون، پالیسی یا اقدام کے خلاف آواز بلند کرے گی جو آزاد اور ذمہ دار صحافت کے راستے میں رکاوٹ بنے۔سی پی این ای سندھ کمیٹی کے اجلاس میں چیئرمین قاضی اسد عابد کے ساتھ سی پی این ای کے سیکریٹری جنرل غلام نبی چانڈیو، فنانس سیکریٹری حامد حسین عابدی، جوائنٹ سیکریٹری منزہ سہام، ڈاکٹر جبار خٹک، مقصود یوسفی، حسن عباس، عبدالسمیع منگریو، امجد چوہدری، شیر محمد کھاوڑ، ایاز میمن، محمود عالم خالد، مدثر عالم، عمران کورائی، فراز احمد چانڈیو، سلیم شیخ، وحید میمن، رحمان سکندر ملک، سلمان قریشی، ہارون اور قاسم سومرو نے شرکت کی۔

Related Articles

جواب دیں

Back to top button