
امریکی حملے پر تل ابیب کو نشانہ بنائیں گے، ایران
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے مشیر علی شمخانی نے کہا ہے کہ امریکا نے تہران پر حملہ کیا تو وہ تل ابیب کو نشانہ بنائیں گے، ایران نے ایک ہزار نئے جنگی ڈرونز اپنی فضائیہ میں شامل کردیئے، یورپ نے پاسداران انقلاب کو دہشت گرد قرار دیدیا،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران پر دھمکیوں کے دوران سونے کی عالمی قیمتیں مزید بڑھ گئیں، فی اونس سونے کی قیمت 5ہزار 595ڈالر ہوگئی ، تیل کی عالمی قیمتوں میں بھی 4فیصد سے زائد اضافہ ہوا ، برینٹ کروڈ کی قیمت 70.27ڈالر اور امریکی تیل کی قیمت 66.19ڈالر فی بیرل ہوگئی ۔ تفصیلات کے مطابق ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سابق سکریٹری علی شمخانی نے خبردار کیا ہے کہ امریکا کی جانب سے کسی بھی فوجی کارروائی کو مکمل جنگ کا آغاز سمجھا جائے گا۔علی شمخانی نے کہا کہ اس حملے کے جواب میں ایران فوری، جامع اور بے مثال ردعمل دے گا جس میں تل ابیب کو نشانہ بنانا بھی شامل ہوگا۔ایرانی فوج کے عسکری ڈھانچے میں ایک ہزار اسٹریٹجک ڈرونز شامل کر لئےگئے ہیں۔ ایرانی خبررساں ایجنسی تسنیم کے مطابق یہ اقدام ایرانی فوج کے کمانڈر میجر جنرل امیر حاتمی کے حکم پر عمل میں آیا، فوج میں شامل کئے جانے والے یہ نئے ڈرونز بری فوج کی عملی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ کریں گے۔خبررساں ایجنسی کے مطابق یہ ڈرونز ایرانی فوج کے ماہرین نے وزارتِ دفاع کے تعاون سے تیار کیے ہیں، ان کی تیاری ابھرتے ہوئے خطرات اور جون 2025 میں ہونے والی 12 روزہ جنگ سے حاصل ہونے والے تجربات کی بنیاد پر کی گئی ہے۔یورپی یونین نے ایران کی پاسدارانِ انقلاب کو "دہشت گرد تنظیم” قرار دینے پر اتفاق کر لیا ہے۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ ملک میں بڑے پیمانے پر ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے خلاف خونی کریک ڈاؤن کی وجہ سے کیا گیا ہے، جس کا مقصد تہران کو مذمت کا ایک طاقتور پیغام بھیجنا ہے۔یورپی یونین کی سربراہ ارزولا فان دیر لاین نے بلاک کے وزرائے خارجہ کے اس فیصلے کے بعد انٹرنیٹ پر جاری ایک پیغام میں کہا:”یہ اقدام بہت پہلے ہو جانا چاہیے تھا”۔ ایرانی فوج نے یورپی یونین کی جانب سے پاسدارانِ انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کی مذمت کی ہے۔ ایرانی فوج نے اس فیصلے کو "غیر ذمہ دارانہ اور کینہ پروری پر مبنی” قرار دیا۔ ایران نےکہا ہے کہ امریکا کے پیش کردہ مطالبات کو ماننا جنگ کے مقابلے میں زیادہ مہنگا ثابت ہوگا، تہران نے امریکی دعوؤں کو جھوٹا قرار دیا کہ ایران مذاکرات کے لیے واشنگٹن سے رابطہ کر رہا ہے۔ اسرائیلی اخبار کے مطابق ایران کا کہنا ہے کہ اگر ٹرمپ کے معاہدے اور جنگ میں انتخاب کرنا پڑا تو وہ جنگ کو کم نقصان دہ راستہ سمجھے گا، کیونکہ وہ اپنی مکمل پسپائی قبول نہیں کرے گا۔اسرائیلی اخبار کے مطابق ایران کا مؤقف ہے کہ امریکا کے پیش کردہ مطالبات پر مبنی کسی معاہدے تک پہنچنا جنگ کے مقابلے میں زیادہ مہنگا ثابت ہوگا، اسی لیے وہ فوجی تصادم کی تیاری کر رہا ہے۔



