پاکستانسپیشل رپورٹ

سکھ یاتریوں کا پونچھ ہاؤس اور بھگت سنگھ گیلری کا دورہ

برطانیہ اور امریکہ سے آئے ہوئے سکھ یاتریوں کے ایک وفد نے گزشتہ روز پونچھ ہاؤس اور بھگت سنگھ گیلری کا دورہ کیا، جہاں محکمہ سیاحت پنجاب (TDCP) کے افسران نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔

1849 میں تعمیر ہونے والا پونچھ ہاؤس لاہور کے نوآبادیاتی طرزِ تعمیر کی نمایاں علامت ہے۔ وفد کو اس تاریخی عمارت کی اہمیت اور پس منظر سے متعلق بریفنگ دی گئی۔ حکومت پنجاب نے اس ورثہ عمارت کی بحالی اور تزئینِ نو ’’تاریخی ورثہ محفوظ، سیاحت مضبوط‘‘ کے عزم کے تحت مکمل کی ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے ’’میگنیفیسنٹ پنجاب‘‘ وژن کے تحت تاریخی ورثہ کے تحفظ اور سیاحتی فروغ کو بھرپور ترجیح دی جا رہی ہے۔ جبکہ سینئر وزیر پنجاب مریم اورنگزیب ورثہ مقامات کی جدید تشہیر اور بہتر سہولیات کی فراہمی کے لیے متحرک اقدامات کر رہی ہیں۔

کمیٹی روم میں وفد کو ایک دستاویزی فلم دکھائی گئی، جس میں عمارت کی بحالی، فنِ تعمیر کی خصوصیات اور بھگت سنگھ کی تحریکِ آزادی میں نمایاں کردار پر روشنی ڈالی گئی۔ یاتریوں نے تاریخی ورثہ کے اصل رنگ اور ساخت کو برقرار رکھتے ہوئے بحالی کے اعلیٰ معیار کی تعریف کی۔

بعد ازاں وفد نے بھگت سنگھ گیلری کا دورہ کیا جہاں 1931 کے عدالتی مقدمہ کو مستند اور جدید طرزِ نمائش کے ذریعے پیش کیا گیا ہے۔ یہاں بھگت سنگھ کی زندگی، جدوجہد، قانونی چارہ جوئی، قید و بند کی تاریخ اور ذاتی نوادرات محفوظ ہیں۔

1931 کی عدالت کے ماڈل نے یاتریوں کی خصوصی توجہ حاصل کی، جس کے ذریعے انہیں بھگت سنگھ کی جرات مندانہ جدوجہد کے تاریخی لمحات کو قریب سے سمجھنے کا موقع ملا۔

وفد نے PSIC کے اسٹال سے یادگاری تحائف بھی خریدے، جن میں پونچھ ہاؤس اور بھگت سنگھ سے متعلق خصوصی نوادرات شامل تھے۔

سکھ یاتریوں نے کہا کہ پنجاب حکومت کے اقدامات تاریخی ورثہ کو علمی و ثقافتی مرکز میں تبدیل کر رہے ہیں، جو اقوام کے درمیان مشترکہ تاریخ، ہم آہنگی اور دوستی کے جذبات کو مزید مضبوط بنا رہے ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

Back to top button