پاکستانسیاسیات

صحافیوں کے خلاف جرائم کے خاتمہ کا عالمی دن،میڈیا پر پابندیوں کے حوالے سے لاہور پریس کلب میں تقریب کااہتمام

صحافیوں کے خلاف جرائم کے خاتمہ کا عالمی دن اور 3 نومبر کی ایمرجنسی ،میڈیا پر پابندیوں کے حوالے سے لاہور پریس کلب میں تقریب کااہتمام کیا گیا۔

تقریب کی صدارت سینئر صحافی حسین نقی نے کی جبکہ پی ایف یوجے کے سیکرٹری جنرل و صدر لاہور پریس کلب ارشد انصاری ، سینئر صحافی خاور نعیم ہاشمی ، سہیل وڑائچ ، انسانی حقوق کمیشن پاکستان کے نائب صدر راجہ اشرف ، پی یوجے کے سینئر نائب صدر یوسف رضا عباسی ،جنرل سیکرٹری قمرالزمان بھٹی اور وزیراعظم پاکستان کے میڈیا کوآرڈینیٹر اوورسیز پاکستانی عثمان بھٹی نے خطاب کیا۔

حسین نقی کا کہنا تھا کہ آج صحافیوں کو جن مسائل اور پابندیوں کا سامنا ہے اس کے خاتمے کے لئے سب کو مشترکہ جدوجہد کے لئے میدان میں کھڑا ہونا ہوگا،پاکستان میں صحافیوں کی مارشل لاءادوار اور میڈیا پر پابندیوں کے خلاف صحافیوں کی جدوجہد تاریخی ہے،صحافیوں نے کوڑے بھی کھائے اور مقدمات کا سامنا بھی کیا ہے مگر وہ آزادی صحافت کے تحفظ کے لئے کھڑے رہے۔

پی ایف یوجے کے سیکرٹری جنرل وصدرلاہورپریس کلب ارشد انصاری نے کہا کہ پاکستان میں صحافیوں کے خلاف جرائم میں خوفناک حد تک اصافہ ہوچکا ہے، جس کے تدارک کے لئے حکومت کو ٹھوس اقدامات اٹھانے چاہیں،

گذشتہ ایک سال میں صحافیوں کو پیکا کے سینکڑوں مقدمات کا سامنا کرنا پڑا جبکہ سات صحافی قتل کیے گئے۔انہوں نے تین نومبر 2007 کی ایمرجنسی کے حوالے سے کہا کہ یہ دن پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے جب ملک میں بیک جنبشِ قلم جنرل پرویز مشرف نے میڈیا اداروں پر پابندی عائد کردی اور ٹی وی چینل اور اخبارات کو سچ لکھنے سے روکا گیا۔

انہوں نے کہا کہ صحافی پیکاجیسے کالے قوانین اور کسی بھی قسم کی پابندیوں کو نہیں مانتے اور ہم اس کے خلاف جدوجہد جاری رکھیں گے۔

ارشد انصاری نے کہاکہ غزہ میں اسرائیلی بمباری سے درجنوں صحافی شہید اور زخمی ہوئے اور پوری دنیا نے اس کی پرزورمذمت کی یہاں تک کہ گذشتہ روز یو این اوکے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہاکہ دنیابھر میں صحافیوں پر ظلم وستم ڈھائے گئے اور دس میں سے صرف ایک کیس ہی حل ہوا۔

انھوں نے کہاکہ ہم سب کو یکجا ہوکر آزادی صحافت کے تحفظ کے لئے کھڑاہونا پڑے گا۔ خاور نعیم ہاشمی نے کہا کہ صحافیوں نے آزادی صحافت اور آزادی اظہار کے لئے قربانیاں دی ہیں، مجھے اس وقت کوڑے مارے گئے جب ڈاکٹر نے یہ لکھا کر دیا کہ اس کا جسم کوڑے کھانے کے قابل نہیں ہے،اس وقت میرا وزن محض 35 کلو تھا۔انہوں کو کہا کہ صحافیوں کو اپنی جدوجہد سب سے بڑی جنگ کے طور پر لڑنا ہوگی۔

سینئر صحافی سہیل وڑائچ نے کہا صحافیوں کو اپنے پیشے کا تقدس کی خود حفاظت کرنا ہوگی اور خبر دیتے وقت کسی سیاسی پارٹی کا ترجمان بننے کی بجائے صحافی کی حیثیت سے کام کرنا ہوگا۔وزیراعظم پاکستان کے میڈیا کوآرڈینیٹر برائے اوورسیز عثمان بھٹی نے کہا کہ صحافیوں کا تحفظ حکومت کہ ذمہ داری ہے جس کے لئے حکومت نے جرنلسٹ پروٹیکٹ ایکٹ منظور کیا ہے تاہم سوشل میڈیا پر ریاست مخالف ایجنڈا بیسڈ صحافت کرنے والے یوٹیوبرز آزادی صحافت پر حملہ آوورز ہیں۔

انسانی حقوق کمیشن پاکستان کے نائب صدر راجہ اشرف نے کہا کہ ایچ آر سی پی ہمیشہ انسانی حقوق اور آزادی صحافت کے ایشوز پر صحافیوں کے ساتھ ہے اور ہم صحافیوں کے خلاف ریاستی اور غیر ریاستی تمام حملہ آور کے خلاف کھڑے ہیں۔

قمرالزمان بھٹی نے کہا صحافیوں کو آج نہ صرف مختلف دھمکیوں اور حملوں کا سامنا ہے بلکہ ان کی تنخواہیں تک روکی جاتی ہیں اور یہ ایک الگ طرز کا حملہ ہے جو ایک طویل عرصہ سے جاری ہے جس میں صحافی کے معاشی حقوق تک غضب کیے جاتے ہیں۔

تقریب میں پی یوجے کے سینئر نائب صدر یوسف رضا عباسی نے شرکاءکا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ یونین صحافیوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے میدان عمل میں کھڑی ہے۔ تقریب میں پی ایف یوجے کے ممبر ایف سی سی شفیق اعوان ، پی یوجے کے جوائنٹ سیکرٹری شیر علی خالطی ،

لاہور پریس کلب کے جوائنٹ سیکرٹری عمران شیخ،فنانس سیکرٹری سالک نواز،ممبرگورننگ باڈی شاہدہ بٹ، سعید اختر،ضمیرآفاقی، نعمان یاور ،ذوالفقارعلی مہتو، رفیق خان،احسن صبوح، امریز خان،ندیم شیخ،حامد نواز،ندیم سلیمی،صداقت مغل، عمر شریف،اکمل بھٹی،زاہد قیوم، عرفان نذیر،شفقت حسین ، امان اللہ خان ،عمر عظیم، محمد علی ، حسنین اخلاق، عامر سلامت، عطیہ زیدی ،افضل ایوبی، راناطارق، شہزاد فراموش، سید شاکر علی ، ستار چودھری ، عتیق شاہ،ڈاکٹر شجاعت حامد،جاوید ہاشمی، حارث مرغوب ،شبیرصادق، راناخالد قمر،اے آرگل، جمال احمد ، اکٹر بشارت،طاہراصغر،ریاض بھٹی،کاشف علی، عثمان علی ،عامر باجوہ ، سرفراز خان نیازی ،کرم داد اور وحید شفیع،سمیت صحافیوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی!

Related Articles

جواب دیں

Back to top button