
ثقافتی ورثہ کی بحالی کیلئے اقدامات ناگزیر، ڈاکٹر احسان بھٹہ
“تاریخی ورثہ پنجاب کی ثقافتی روح ہے اور اس کے تحفظ کے لیے تیز تر اقدامات ہماری اولین ترجیح ہیں”، ان خیالات کا اظہار سیکرٹری ٹورزم، آثارِ قدیمہ و میوزیم پنجاب ڈاکٹر احسان بھٹہ نے گزشتہ روز محکمہ آثارِ قدیمہ کی زیرنگرانی اہم تاریخی مقامات کے تفصیلی دورے کے موقع پر کیا۔ انہوں نے پنجاب اسمبلی کے قریب سمٹ مینار، سپریم کورٹ رجسٹری کے نزدیک سینٹ اینڈریو چرچ، جاوید منزل آڈیٹوریم و لائبریری اور علی مردان خان کے مقبرے کا معائنہ کیا۔انہوں نے بتایا کہ سمٹ مینار 1974 میں منعقدہ دوسری اسلامی سربراہی کانفرنس کی یادگار ہے جو پاکستان کے عالمی سفارتی کردار کی علامت کے طور پر تعمیر کیا گیا تھا جبکہ سینٹ اینڈریو چرچ نوآبادیاتی دور کی گوتھک طرز تعمیر کی ایک نایاب مثال ہے جو لاہور کے تاریخی اور مذہبی تنوع کی عکاسی کرتی ہے۔
ڈاکٹر احسان بھٹہ نے کہا کہ پنجاب بھر کے تاریخی ورثہ کی بحالی اور تزئین و آرائش وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے وژن “میگنیفیسنٹ پنجاب” کے مطابق اور سینئر وزیر پنجاب مریم اورنگزیب کی خصوصی ہدایات کے تحت جاری ہے تاکہ صوبے کی تہذیبی شناخت کو بہترین انداز میں محفوظ رکھا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ ان ورثہ مقامات پر جاری ترقیاتی کام چیف سیکرٹری پنجاب زاہد زمان خان کی سرپرستی اور رہنمائی میں مؤثر حکومتی نگرانی اور بروقت تکمیل کے اصول پر آگے بڑھ رہے ہیں جس سے ثقافتی ورثہ کے تحفظ میں خاطر خواہ بہتری آ رہی ہے۔
ڈاکٹر احسان بھٹہ نے مختلف مقامات پر جاری بحالی کے عمل، ساختی مضبوطی، مرمتی مراحل اور ہر یادگار کی آثارِ قدیمہ حیثیت سے متعلق دستیاب ڈیٹا کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر ڈائریکٹر کنزرویشن انجم قریشی، ایکسیئن سی اینڈ ڈبلیو عمیر حسن، ایس ڈی او آثارِ قدیمہ اور کنسلٹنٹس ملک مقصود اور عتیق الرحمٰن بھی ان کے ہمراہ تھے۔
انہوں نے محکمہ آثارِ قدیمہ اور سی اینڈ ڈبلیو کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے ہدایت کی کہ کام کے معیار کو اولین ترجیح رکھتے ہوئے اس کی رفتار مزید تیز کی جائے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ یکم دسمبر کو دوبارہ ان مقامات کا دورہ کریں گے تاکہ دی گئی ٹائم لائنز کے مطابق پیشرفت کا جائزہ لیا جا سکے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ پنجاب کا تاریخی ورثہ صدیوں پر محیط تہذیبی، ثقافتی اور تعمیراتی تاریخ کا امین ہے جسے جدید سائنسی طریقوں اور جامع تاریخی دستاویزات کی مدد سے محفوظ بناتے ہوئے آنے والی نسلوں تک منتقل کیا جائے گا۔



