
آرگینک خوراک اور مصنوعات پر ریسرچ کرنے والے ادارے کے سربراہ نجم مزاری نے کہا ہے کہ سپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل دیگر بڑے شعبوں کی طرح آرگینک خوراک اور مصنوعات کے فروغ اور اس کی برآمدات پربھی توجہ مرکوز کرے تاکہ پاکستان عالمی منڈی میں تیزی سے بڑھتے ہوئے شعبے میں اپنا حصہ بڑھا سکے،
پاکستان میں آرگینک پیداوار کے لیے موزوں آب و ہوا اور زرخیز زمین موجود ہے مگر اس صلاحیت کو موثر منصوبہ بندی اور حکومتی سرپرستی کے بغیر بروئے کار نہیں لایا جا سکتا۔ اپنے بیان میں ا نہوں نے کہا کہ ایس آئی ایف سی آرگینک فارمنگ، پروسیسنگ، سرٹیفکیشن اور برآمدی سہولیات کے لیے سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کرے اور اس شعبے کو اپنی ترجیحات میں شامل کرے،اگر نجی شعبے سے اشتراک کر کے آرگینک فوڈ انڈسٹری کو مراعات، تربیت اور مالی معاونت فراہم کی جائے تو پاکستان چند سالوں میں آرگینک مصنوعات کا نمایاں برآمد کنندہ بن سکتا ہے۔
انہوں نے یہ تجویز بھی دی کہ ایس آئی ایف سی عالمی اداروں کے ساتھ شراکت کے ذریعے ایک جامع پالیسی فریم ورک تشکیل دے جس کے تحت مقامی پیداوار کو بین الاقوامی معیار کے مطابق ڈھالا جا سکے۔ اس اقدام سے نہ صرف برآمدات میں اضافہ ہو گا بلکہ ملکی معیشت کو بھی استحکام ملے گا اور دیہی علاقوں میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی و صوبائی محکموں اور مذکورہ شعبہ مشترکہ ورکنگ گروپس تشکیل دیں تاکہ پالیسی سازی، معیارات کی بہتری، سرٹیفکیشن اور لاجسٹکس کے شعبوں میں درپیش رکاوٹوں کو دور کیا جا سکے۔ اگر ایس آئی ایف سی کی یہ کوششیں موثر طور پر نافذ ہو گئیں تو نہ صرف پاکستان کی زرعی برآمدات میں نمایاں اضافہ ہو گا بلکہ دیہی معیشت کو بھی مضبوط بنیاد میسر آئے گی اور آرگینک خوراک کے شعبے میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔



