پاکستان

سی پی این ای، پی ایف یو جے اور ایمنڈ نے اسلام آباد پریس کلب پر پولیس دھاوے اور صحافیوں پر تشدد کو دہشتگردی قرار دیدیا

سی پی این ای پی ایف یو جے اور ایمنڈ نے اسلام آباد پریس کلب پر پولیس کے دھاوے اور صحافیوں کو تشدد کا نشانہ بنانے کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے دہشتگردی قرار دیا ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے میں ملوث افراد کیخلاف فوری کارروائی کی جائے۔

صحافی تنظیموں نے اس واقعے کو صحافیوں کیخلاف تواتر سے جاری کارروائیوں کا تسلسل قرار دیا ہے۔ اپنے بیان میں صحافی تنظیموں نے کہا کے گزشتہ چند روز سے حکومت پاکستان کی جانب سے بھی سوچا ہے کہ اب جنگ کی صورت کیا ہے ؟” کے عنوان کے تحت قومی و علاقائی میڈیا کو جاری کئے گئے اشتہارات شائع کیے جا رہے ہیں جس میں دھمکی آمیز زبان استعمال کرتے ہوئے میڈیا سے منسلک رپورٹرز ، فری لانسرز اور سماجی تنظیموں کو ریاست مخالف فہرست میں لا کھڑا کیا ہے ۔ اس کا مقصد صحافیوں کی کردار کشی کرنا، انہیں دباو میں لانا اور اظہار رائے کو سلب کرنا ہے لہذا اسے فوری طور پر بند کیا جائے۔

بیان میں کہا گیا کہ جس میڈیا نے دوران جنگ انتہائی ذمہ داری سے ملکی و قومی مفاد کو پیش نظر رکھتے ہوئے پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کی اس سے منسلک اہم جزور پورٹر اور فری لانسرز کو دہشت گردوں سے تشبیہ دینا آزاد صحافت کے نظریے کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔ بیان میں واضح کیا گیا کہ آئین پاکستان ہر شہری کو معلومات تک بلا رکاوٹ رسائی کا حق دیتا ہے ذمہ دار پاکستانی میڈیا نے ہمیشہ وطن کی سلامتی کو مقدم رکھتے ہوئے معلومات عوام تک پہنچا ئیں۔

مشترکہ پریس ریلیز کے مطابق پریکا ایکٹ کے من پسند بے دریغ استعمال نے بھی صحافی تنظیموں کے خدشات کو درست ثابت کر دیا ہے۔ درجنوں صحافیوں پر ملک بھر میں پریکا ایکٹ کے تحت مقدمات درج ہیں ۔ اس ایکٹ کی آڑ میں حکومتی ناقدین کو دبانے اور اظہار رائے کی آزادی کو سلب کرنے کے تمام حربے استعمال کئے جارہے ہیں۔

مشترکہ بیان کے مطابق صحافی تنظیمیں ذاتی مفاد کے لئے پھیلائی گئی کسی بھی بے بنیاد ، لغو، جھوٹی اور فیک نیوز کی سختی سے مذمت کرتی رہی ہیں اور اس میں ملوث فرد یا گروہ کی ہر فورم پر حوصلہ شکنی کو ذمہ دارانہ صحافت کا بنیادی اصول حکومت تسلیم کرتی ہیں لیکن اس آڑ میں دانستہ خوف اور ہراسانی کا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کسی صورت قابل قبول نہیں۔ ان اقدامات کے خلاف ہر سطح پر مزاحمت کی جائے گی اور آئینی و قانونی جدو جہد کے تمام آپشن استعمال کئے جائیں گے۔

Related Articles

جواب دیں

Back to top button