نوشہرو فیروز اور گھوٹکی میں اونچے درجے کا سیلاب، کچے کے متعدد دیہات زیر آب
سندھ کے ضلع نوشہرو فیروز میں دریائے سندھ میں اونچے درجے کی سیلابی صورتحال برقرار ہے، کچے کے اکثر دیہات پانی میں ڈوب چکے ہیں، فصلیں تباہ ہوچکی ہیں۔
پرانی منجٹھ کے کچے میں واقع گاؤں شیر محمد کھوسو کو جانے والے تمام زمینی رابطے بھی منقطع ہوکر رہ گئے ہیں، پانی جمع ہونے سے سیلاب متاثرین ملیریا سمیت مختلف وبائی امراض میں مبتلا ہو رہے ہیں۔
نوشہروفیروز میں دریائے سندھ کی بپھری لہروں سے کچے کے دیہات شدید متاثر ہوئے ہیں، دیہات کے اطراف کاشت کی گئی فصلیں بھی تباہ ہوگئیں، 2 ہزار سے زائد ایکڑ پر کاشت لیموں کی فصل میں کئی فٹ پانی جمع ہوگیا، کاشتکاروں نے سندھ حکومت سے امدادی پیکج دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
گھوٹکی میں بھی کئی دیہات کا زمینی رابطہ تاحال منقطع ہے، سیلاب سے متاثرہ علاقوں سے شہر کی طرف آنے کے لیے واحد زریعہ کشتی ہے، سیلابی پانی نے ہزاروں ایکڑ پر کھڑی فصلوں کو تباہ کردیا ہے۔
سیلابی پانی کی سطح کم ہونے لگی ہے، تاحال قادر پور راؤنتی اور آندل سندرانی کے کچے کے علاقوں میں سیلابی پانی موجود ہے۔
نواب شاہ میں دریائے سندھ میں پانی کے بہاؤ میں اضافہ ہونے لگا ہے، کچے کے متعدد دیہات زیر آب آگئے ہیں، ریسکیو کے مطابق سیلاب میں پھنسے افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔



