
ٹرمپ کی سخت گیر پالیسیاں: امریکا کی تمام 50 ریاستوں میں ’نوکنگز‘ کے نام سے مظاہرے
ہفتے کے روز تمام 50 امریکی ریاستوں میں ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے تاکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سخت گیر پالیسیوں کے خلاف اپنے غصے کا اظہار کر سکیں، ان مظاہروں کو ’نو کنگز‘ کے نام سے منظم کیا گیا، جنہیں اعلیٰ ریپبلکن رہنماؤں نے طنزیہ طور پر ’ہیٹ امریکا ریلیاں‘ قرار دیا۔
غیر ملکی خبر رساں اداروں کی رپورٹ کے مطابق نیویارک اور واشنگٹن سے لے کر مشی گن کے چھوٹے شہروں تک، ملک بھر میں 2 ہزار 700 سے زائد احتجاجی مظاہرے منصوبہ بندی کے تحت کیے گئے، اور منتظمین کا کہنا تھا کہ انہیں لاکھوں افراد کی شرکت کی توقع ہے، جو امریکی تاریخ کے سب سے بڑے عوامی احتجاجوں میں سے ایک ہو سکتا ہے۔
یہ بڑی عوامی تحریک جون میں ہونے والے اسی طرح کے مظاہروں کے بعد دوسری بار سامنے آئی ہے، یہ تحریک ان پالیسیوں کے خلاف ہے جنہیں ناقدین ملک کو آمریت کی طرف دھکیلنے کے مترادف سمجھتے ہیں۔
’یہی جمہوریت کی اصل شکل ہے!‘ واشنگٹن کے نیشنل مال کے قریب ہزاروں مظاہرین نعرے لگا رہے تھے، بہت سے لوگ امریکی پرچم اٹھائے ہوئے تھے جب کہ دیگر ’ہے ہے، ہو ہو، ڈونلڈ ٹرمپ ہیز ٹو گو !‘
مظاہرین اس بات پر برہم تھے کہ ریپبلکن ارب پتی صدر کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے ملک میں سخت گیر اقدامات بڑھ گئے ہیں، ان کے خدشات میں میڈیا پر حملے، سیاسی مخالفین کے خلاف مقدمات اور امیگریشن پر وسیع کریک ڈاؤن شامل ہیں، جس کے تحت نیشنل گارڈ کے دستے لاس اینجلس، واشنگٹن اور میمفس جیسے شہروں میں تعینات کیے گئے ہیں۔
یہ مظاہرے ایسے وقت میں ہوئے جب امریکی حکومت کے شٹ ڈاؤن کو 3 ہفتے ہو چکے ہیں، اور ٹرمپ انتظامیہ نے قانون سازی میں رکاوٹ کے باعث ہزاروں وفاقی ملازمین کو برطرف کر دیا ہے۔
ہزاروں افراد نیویارک کے ٹائمز اسکوائر، بوسٹن کامن، اور شکاگو کے گرانٹ پارک میں جمع ہوئے، لاس اینجلس میں منتظمین کو ایک لاکھ مظاہرین کی آمد کی توقع تھی اور وہاں ’ٹرمپ کا ڈائپر پہنے ہوئے ایک دیو ہیکل غبارہ‘ فضا میں اُڑانے کی منصوبہ بندی بھی کی گئی تھی۔
69 سالہ ریٹائرڈ خاتون کولین ہوفمین نے نیویارک میں اے ایف پی سے گفتگو میں کہا کہ میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ میں اپنی جمہوریت کے زوال کا منظر دیکھوں گی، ہم ایک بحران میں ہیں، یہ حکومت ظالمانہ اور آمرانہ ہے، میں گھر بیٹھ کر کچھ نہ کرنا برداشت نہیں کر سکتی۔
ٹرمپ کا ان مظاہروں پر ردِعمل نسبتاً محتاط تھا، مگر ان کے حامیوں نے بھرپور جوابی بیانات دیے، ایوانِ نمائندگان کے اسپیکر مائیک جانسن نے اس دن کو ’ہیٹ امریکا ریلی‘ قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ آپ دیکھیں گے کہ مارکسسٹ، سوشلسٹ، اینٹیفا، انارکسٹ اور ڈیموکریٹ پارٹی کے پرو-حماس دھڑے کے لوگ سب اکٹھے ہوں گے۔
ریپبلکن رکن ٹام ایمر نے بھی مظاہرین کو ’ہیٹ امریکا‘ ریلی کا حصہ کہا اور انہیں ڈیموکریٹک پارٹی کے ’دہشت گرد ونگ‘ کے طور پر بیان کیا۔
کچھ ریپبلکن رہنماؤں نے خدشہ ظاہر کیا کہ یہ مظاہرے سیاسی تشدد کو ہوا دے سکتے ہیں، خاص طور پر اس واقعے کے بعد جب ستمبر میں سیاسی کارکن چارلی کرک، جو ٹرمپ کے قریبی ساتھی تھے، کو قتل کر دیا گیا تھا۔



