بین الاقوامی

ابراہم معاہدوں کا حصہ بننا چاہتے ہیں، محمد بن سلمان

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز محمد بن سلمان کا شاندار استقبال کیا، جب سعودی ولی عہد ایک پروقار اور معاہدوں سے بھرپور دورے پر وائٹ ہاؤس پہنچے۔

غیر ملکی خبر رساں اداروں کی رپورٹ کے مطابق ولی عہد نے 7 سال سے زیادہ عرصے بعد پہلی مرتبہ وائٹ ہاؤس کا دورہ کیا ہے، اُن کا جنوبی لان میں ٹرمپ کی سربراہی میں بھرپور اہتمام کے ساتھ استقبال کیا گیا، جس میں فوجی گارڈ آف آنر، توپوں کی سلامی اور امریکی جنگی طیاروں کی پرواز شامل تھی۔

یہ ملاقات دنیا کی سب سے بڑی معیشت اور سب سے بڑے تیل برآمد کنندہ کے درمیان اُس اہم تعلق کو اجاگر کرتی ہے، جسے ٹرمپ نے اپنی دوسری مدت میں اولین ترجیح دی ہے،۔

محمد بن سلمان نے کہا کہ ان کا ملک ٹرمپ کے ابراہم معاہدوں کے ذریعے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانا چاہتا ہے، لیکن پہلے فلسطینی ریاست کی جانب ایک واضح راستہ درکار ہے۔

اوول آفس میں ٹرمپ کے ساتھ بیٹھے ہوئے شہزادے نے کہا کہ ہم ابراہم معاہدوں کا حصہ بننا چاہتے ہیں، لیکن ہم یہ بھی یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ دو ریاستی حل کا واضح راستہ محفوظ ہو، ہم اس پر کام کریں گے تاکہ جلد از جلد مناسب حالات تیار کیے جا سکیں۔

ٹرمپ نے یہ بھی تردید کی کہ محمد بن سلمان کے ساتھ مذاکرات میں ان کا کوئی مفاداتی ٹکراؤ ہے، جب کہ اُن کے بیٹوں نے حال ہی میں سعودی عرب میں ایک بڑی رئیل اسٹیٹ ڈیل کی ہے۔

وائٹ ہاؤس میں ایک دن کی سفارت کاری کے دوران، محمد بن سلمان کابینہ روم میں دوپہر کا کھانا کھائیں گے اور شام کو ایک بلیک ٹائی ڈنر میں شرکت کریں گے، جس سے اس دورے کو تقریباً سرکاری ریاستی دورے جیسا پروٹوکول ملے گا۔

Related Articles

جواب دیں

Back to top button