
پاکستان
ادارہ نظریہ پاکستان اور تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ کے زیر اہتمام یوم اقبال پر خصوصی تقریب
علامہ محمد اقبالؒ نے مسلمانان برصغیر میں حریت کی تڑپ پیدا کی‘ انہوں نے الگ اسلامی ریاست کا تصور پیش کیا جسے قائداعظمؒ نے عملی تعبیر دی۔ کلام اقبالؒ کی پیروی میں ہمیں آپسی اختلافات پس پشت ڈال کرایک دوسرے کو برداشت کرنا سیکھنا ہو گا۔ ان خیالات کا اظہار مقررین نے شاعر مشرق‘مفکر پاکستان‘ حکیم الامت حضرت علامہ محمد اقبالؒ کے148 ویں یوم ولادت کے موقع پر ایوان کارکنان تحریک پاکستان لاہور میں منعقدہ خصوصی تقریب کے دوران کیا۔ اس تقریب کا اہتمام ادارہ نظریہ پاکستان نے تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ کے اشتراک سے کیا تھا جس کی صدارت علامہ محمد اقبالؒ کے پوتے اور وائس چیئرمین تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ بیرسٹر ولید اقبال نے کی۔ پروگرام کا باقاعدہ آغاز تلاوت کلام پاک، نعت رسول مقبولؐ اور قومی ترانہ سے ہوا۔ قاری محمد داؤد نقشبندی نے تلاوت کلام پاک کی سعادت حاصل کی جبکہ محمد بلال ساحل نے بارگاہ رسالت مآبؐ میں ہدیہئ عقیدت پیش کیا۔ نظامت کے فرائض محمد سیف اللہ چودری نے انجام دیے۔
بیرسٹر ولید اقبال نے کہا کہ علامہ محمد اقبالؒ منفرد لب و لہجہ کے عظیم شاعر تھے‘ آج بہت سے ایسے سطحی اشعار بھی ان کی طرف منسوب کیے جاتے ہیں جو انہوں نے کہے ہی نہیں لہٰذا ہمیں کلام اقبال کا بغور مطالعہ کرنا چاہیے۔ علامہ محمد اقبالؒ نے بے شمار موضوعات پراپنا کلام لکھا ہے۔ انہوں نے دین اسلام‘ نبی کریمؐ و قران پاک سے عشق‘ مشرق و مغرب‘ انسانی کیفیت‘ خودی‘ عقل و عشق اور قدرتی خوبصورتی جیسے موضوعات کا بطور خاص اپنے کلام میں ذکر کیا ہے۔ علامہ محمد اقبالؒ کے کلام کا مطالعہ اور اس پر عمل کرنے کا عزم کریں۔
ممتاز صحافی و دانشور مجیب الرحمان شامی نے کہا علامہ اقبالؒ نے قائداعظمؒ کو خط لکھا کہ آپ ہی اس وقت مسلمانوں کی رہنمائی کر سکتے ہیں لہٰذا آپ ان کی قیادت کریں۔ اس کے برعکس اگر ہم آج کے حالات دیکھیں تو کیا اس وقت ملک میں کوئی ایسا لیڈر ہے جو دوسرے کو قیادت کرنے کا کہے۔ہم تو ایک دوسرے کی ضد بن چکے ہیں اور ایکدوسرے کو برداشت کرنے پر تیار نہیں ہیں۔ علامہ محمد اقبالؒ نے آزاد وطن کا تصور پیش کیا جہاں مسلمانوں کی اجتماعی زندگیاں ان کے اپنے ہاتھ میں ہوں گی اور قیادت اہل لوگوں کے پاس ہوگی۔ انہوں نے کہا پاکستان دنیا کی ایک بڑی طاقت ہے‘ پاکستان کو علامہ محمد اقبالؒ کا پاکستان بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ہم ایک دوسرے کو تسلیم کریں اور اختلاف رائے کو برداشت کریں۔ انہوں نے کہا علامہ محمد اقبالؒ ایک عام گھرانہ میں پیدا ہوئے اور اپنی محنت و جہد مسلسل سے منفرد مقام بنایا۔ انہوں نے پاکستان کا خواب دیکھا اور دنیا کا نقشہ بدل کر رکھ دیا۔ علامہ اقبالؒ نے فلسطینی مسلمانوں کے حق میں صدائے احتجاج بلند کی۔ نوجوان اپنے بڑوں سے کہیں کہ وہ ایک دوسرے کو برداشت کریں اگر ہم ایسا نہیں کریں گے تو پھر منزل کھوٹی کر دیں گے۔ ہمیں صرف پاکستان کا سوچنا ہو گا۔
سابق چیف کمشنر اسلام آباد طارق پیرزادہ نے کہا کہ علامہ محمد اقبالؒ نے الگ اسلامی ریاست کا تصور پیش کیا۔ انہوں نے قیام پاکستان کے سلسلے میں قائد اعظمؒ کو مسلمانان برصغیر کی قیادت کرنے کیلئے قائل کیا۔ علامہ محمد اقبالؒ نے قائد اعظمؒ کو ایک خط میں لکھا آپ ہی وہ شخصیت ہیں جن کی طرف مسلمانان برصغیر رہنمائی کے لیے دیکھ رہے ہیں‘اس خطہ میں اسلام کو پھلنے پھولنے کے لیے ایک آزاد اسلامی ریاست کا قیام ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ علامہ محمد اقبالؒ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے گہری عقیدت اور محبت تھی اور وہ اپنے کلام میں جابجا اس کا اظہار کرتے ہیں۔ علامہ محمد اقبالؒ کے 15 ہزار اشعار ہیں اور ان کے کلام کا زیادہ تر حصہ فارسی زبان میں ہے لہٰذا ہمارا علامہ اقبال سے تعارف محدود ہے، علامہ اقبالؒ ایک وسیع وعریض سمندر ہیں۔ علامہ محمد اقبالؒ کے افکار کا بغور مطالعہ کریں۔
سیاسی رہنما رانا محمد ارشد نے کہا کہ علامہ محمد اقبالؒ امت مسلمہ کے عظیم رہنما تھے، انہوں نے مسلمانان برصغیر کے لیے الگ اسلامی وطن کا تصور پیش کیا اور قائد اعظمؒ کی قیادت میں مسلمانوں نے الگ وطن حاصل کر لیا۔یہ ملک ہم سب کا ہے، پاکستان کی تعمیروترقی کے لیے ہمیں اپنا بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے
پروفیسر سلمان رفیق نے کہا کہ علامہ محمد اقبالؒ ایک بلند پایہ مفکر، فلسفی اور دانشور تھے۔ انہوں نے مسلمانان برصغیر میں آزادی کی تڑپ پیدا کی۔ کلام اقبال آج بھی ہماری رہنمائی کر رہا ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم کلام اقبال کا بغور مطالعہ اور اس پر عمل کرنے کا عہد کریں۔
سیکرٹری ادارہ نظریہ پاکستان ناہید عمران گل نے کہا کہ ہم افکار اقبال کے فروغ کے لیے کوشاں ہیں تاکہ پاکستان کو قائد اعظمؒ اور علامہ محمد اقبالؒ کا پاکستان بنایا جا سکے۔ادارہ نظریہ پاکستان کے زیر اہتمام یوم اقبال کی دس روزہ تقریبات جاری ہیں۔
سیکرٹری تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ محمد سیف اللہ چوہدری نے کہا کہ علامہ محمد اقبالؒ ہمہ جہت شخصیت تھے۔ وہ بیک وقت ایک مفکر، شاعر، فلسفی، استاد، سیاستدان اور صوفی تھے جنہوں نے اپنے افکار سے امت مسلمہ کو بے حد متاثر کیا۔
پروگرام میں مجاہد حسین سید، بیگم صفیہ اسحاق، کاشف ادیب جاودانی، نذیر انبالوی، اساتذہ کرام اور طلبا وطالبات کی بڑی تعداد شریک تھی۔ پروگرام کے دوران حافظ مرغوب احمد ہمدانی، سید کلیم احمد، محمد انس، محمد طاہر رمضان، ثانیہ اعجاز، سیرت فاطمہ، محمد حسنین طارق اور رامین عمر نے کلام اقبال پیش کیا۔



